جن جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اختیار کا ذکر کیا ہیں ان آیات میں خطاب کافروں سے ہیں ردد ان کے بتوں کا ہیں بد مذہب والے قرآن کی کوئی ایک آیت ایسی نہیں بتا سکتے جس میں کسی نبی یا کسی والی نے اللہ تعالیٰ کے مقابل اپنے اختیار کا دعوی کیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ردد کیا ہو اس کے باوجود کافروں اور بتوں کی آیت سے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا ردد کرنا یہ منافقوں کا کام ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دین و دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا جائز ہے:-
جن جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اختیار کا ذکر کیا ہیں ان آیات میں خطاب کافروں سے ہیں ردد ان کے بتوں کا ہیں بد مذہب والے قرآن کی کوئی ایک آیت ایسی نہیں بتا سکتے جس میں کسی نبی یا کسی والی نے اللہ تعالیٰ کے مقابل اپنے اختیار کا دعوی کیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ردد کیا ہو اس کے باوجود کافروں اور بتوں کی آیت سے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا ردد کرنا یہ منافقوں کا کام ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دین و دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا جائز ہے:-*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور جب وہ ہلاکت میں پڑے گا تو اس کا مال اسے کام نہ آئے گا۔ بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ہی ذمہ ہے۔ اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔*
{وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى : اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک تم یہ بات جانتے ہو کہ آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں اور پتھروں اور دیگر چیزوں سے بنے ہوئے جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو وہ نہ آخرت کے مالک ہیں نہ دنیا کے مالک ہیں تو تم آخرت اور دنیا کے مالک کی عبادت چھوڑ کر اُن بتوں کی عبادت کیسے کرنے لگ گئے جو آخرت اور دنیامیں سے کسی چیز کے مالک نہیں حالانکہ تمہیں یہ بات معلوم بھی ہے۔ *( تاویلات اہل السنہ، اللّیل، تحت الآیۃ: ۱۳ ، ۵ / ۴۷۱)*
نیز یہ بھی یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے دین اور دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے دین اور دنیا کی بھلائیاں دے سکتے ہیں اور یہاں ہم صرف صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سیرت میں موجود اس کی بے شمار مثالوں میں سے چند مثالیں اِختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے دین یا دنیا کی بھلائیاں طلب کرنا شرک ہر گز نہیں بلکہ یہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا طریقہ رہا ہے۔چنانچہ جب حضرت ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے جنت میں ان کی رفاقت مانگی تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے انہیں جنت میں اپنی رفاقت عطا کردی۔ *(مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحثّ علیہ، ص ۲۵۲ ، الحدیث: ۲۲۶(۴۸۹))*
حضرت عکاشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللّٰہ! آپ دعا فرما دیں کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے بے حساب جنت میں جانے والوں میں شامل کر دے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرما دیا کہ اے عکاشہ!تو انہی میں سے ہے۔ *(مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ الخ، ص ۱۳۷ ، الحدیث: ۳۷۴(۲۲۰))*
اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا آخرت کی بھلائی طلب کرنا تو اپنی جگہ، جب کھجور کے ایک تنے سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو میں تجھے اس باغ میں لوٹا دوں جہاں تُو تھا اور اگر تُو چاہے تو میں تجھے جنت میں بو دوں تاکہ جنت میں تیرے پھل اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء کھائیں اور اس نے عرض کی کہ :مجھے جنت میں لگا دیں تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا ’’میں نے ایساکر دیا (یعنی تجھے جنت میں لگا دیا) ۔ *(سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحنین المنبر، ۱/ ۲۹ ، الحدیث: ۳۲)*
غزوۂ خیبر کے موقع پر جب حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی پنڈلی پر چوٹ لگ گئی اور وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو گئے تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ان کی پنڈلی کو درست کر دیا۔ *(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، ۳/ ۸۳ ، الحدیث: ۴۲۰۶ )*
اور مدینہ منورہ میں رہنے والوں نے ایک بارحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے قحط کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے روضۂ انور کی چھت میں روشَندان بنانے کا حکم دیا اور جب روشندان بنایا گیا تو اس قدر بارش برسی کہ گھاس اُگ آئی اور اونٹ موٹے تازے ہو گئے۔ *( سنن دارمی، المقدمۃ، باب ما اکرم اللّٰہ تعالی نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد موتہ، ۱/ ۵۶ ، الحدیث: ۹۲)*
Comments
Post a Comment