حضور ﷺ کا موسیٰ اور یونس علیہ السلام کو دیکھنا :-

 حضور ﷺ کا موسیٰ  اور یونس علیہ السلام کو دیکھنا :- 

Muslim Shareef Hadees No# 328

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق پر گزرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟لوگوں نے کہا کہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہاہوں کہ وہ بلندی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے لبیک کہ رہے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشا کی وادی پر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے کہا ’ہرشا‘کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گویا کہ میں یونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں کہ صوف کا ایک جبہ پہنے ہوئے ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے،اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاوَاتِ، وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ؛جلد١ص١٥٢؛حدیث نمبر٣٢٨)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 328

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-