حضور ﷺ کا علم غیب موسیٰ علیہ السلام نے جس پتھر پر کو مارا اس پر چھ یا سات ضرب کے نشان تھے :-

 حضور ﷺ کا علم غیب موسیٰ علیہ السلام نے جس پتھر پر کو مارا اس پر چھ یا سات ضرب کے نشان تھے :- 

Bukhari Shareef Hadees No# 278

یہ باب ہے؛ جس نے تنہائی میں برہنہ غسل کیا اور جس نے ستر کیا تو ستر افضل ہے پھر امام بخاری آگے لکھتے ہیں کہ؛ اور بہز نے اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لوگوں کی بہ نسبت اللہ اس کا زیادہ حق دار ہیکہ اس سے حیاء کی جائے؛؛؛؛پھر امام بخاری آگے یہ حدیث لکھتے ہیں کہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ بنو اسرائیل برہنہ غسل کرتے تھے؛(اور) ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہتے تھے؛ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے؛ (تو) انہوں نے کہا؛ اللہ کی قسم موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے اور کوئی چیز مانع نہیں سوائے اس کے کہ ان کے خصیے سوجے ہوئے ہیں یا بہت بڑے ہیں؛ پس ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دئے تھے؛ تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا؛ پس موسیٰ علیہ السلام اس پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے نکلے؛ اے پتھر! میرے کپڑے. اے پتھر! میرے کپڑے حتی کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا؛ پھر وہ کہنے لگے؛ اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام میں تو کوئی عیب نہیں ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے لئے اور پتھر کو مارنا شروع کردیا؛ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا؛ اللہ کی قسم! پتھر میں چھ یا سات ضرب کے نشان تھے؛؛؛ *(بخاری شریف کتاب الغسل بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الخَلْوَۃ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ؛جلد ١ ص ٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٨؛؛اطراف الحدیث ٣٤٠٤؛٣٧٩٩)* 

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Gusl Hadees No# 278

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-