Posts

huzoor ko naam se nida karna hadees ka jawab

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ* جہاں تک میرا خیال ہیں کسی کے سامنے باپ کی پہچان کے لئے نام بتانا ضروری ہوتا ہیں اور باپ کو پکارنے میں نام سے نہیں پکارا جاتا اعلی حضرت کے فتوے میں اور اس حدیث میں یہی فرق ہیں  *یہ حدیث حضرت ابن عمر (رضي اللہ عنہما) کے واقعے سے متعلق ہے*  جب ان کی ٹانگ سن ہو گئی تھی، اور ایک شخص کے کہنے پر انہوں نے نبی کریم ﷺ کا نام لیا، جس سے ان کی محبت کا اظہار ہوا، اور اس واقعے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے شاگردوں کا ذکر ہے جو ان کی عیادت کے لیے آئے، اور اس کا ذکر حافظ ابن عساکر اور ابن ابی حاتم نے کیا، اور یہ واقعہ فضائل الصحاب اور محبت نبوی کا ایک اہم ثبوت ہے، جس میں حضرت ابن عمر (رضي اللہ عنہما) نے اللہ کے رسول ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کیا.  *تفصیل:* جب حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہما) کی ٹانگ بے حس ہو گئی، تو ایک شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس شخص کا ذکر کریں جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں، تو انہوں نے فوراً نبی اکرم ﷺ کا نام لیا، اور یہ ان کی گہری محبت اور تعلق کی نشاندہی کرتا ہے.  *واقعے کی سند (راویوں کا سلسلہ):* ابو نعیم (جو بیان ...

*اِستغاثہ کے ثبوت پر مبنی مدلّل جوابات پیش کریں گے۔*

 *اِستغاثہ کے ثبوت پر مبنی مدلّل جوابات پیش کریں گے۔* اِستغاثہ بالغیر کو شِرک قرار دینے کے لئے سب سے پہلے اِسے داخلِ عبادت کر کے کہا جاتا ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت شِرک ہے لہٰذا اللہ ربّ العزّت کے سوا کسی اور سے اِستعانت و اِستغاثہ بھی شِرک ہے- جن آیاتِ مبارکہ میں غیراﷲ کو پکارنے والوں کی مذمّت کی گئی ہے۔ اِسی چیز کو بنیاد بنا کر یہ اِستدلال کیا جاتا ہے کہ مدد چاہنا اور پکارنا صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے لہٰذا کسی اور سے کیا گیا اِستغاثہ صفاتِ اُلوہیت میں شِرک تصور ہوگا۔ یہ اِستنباط بذاتِ خود غلط ہے۔ ذیل میں ہم اِس تصوّر کو واضح کریں گے- *ہر اِستغاثہ عبادت نہیں ہوتا:-*  آیاتِ مبارکہ میں لفظِ ’’دُعا ‘‘ عبادت کے معنی میں اِستعمال ہوا ہے۔ قرآنِ مجید میں لفظِ ’’دُعا ‘‘ ہر جگہ عبادت کے معنی میں مستعمل نہیں ورنہ بھٹکے ہوئے اَذہان تو (معاذ اﷲ) انبیاء علیھم السلام اور خود ذاتِ باری تعالیٰ پر بھی بہتان تراشی سے باز نہیں آتے اور دُور کی کوڑی لا کر اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کی سعیء ناکام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مثلاً *قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے :* 1. فَقُلْ تَعَالَو...

سوال: تقلید کی حقیقت اور اس کے ضروری ہونے پر دلائل بیان کردیجئے؟

سوال: تقلید کی حقیقت اور اس کے ضروری ہونے پر دلائل بیان کردیجئے؟ جواب: ایک سمجھدار بچّہ بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص جو بالکل جاہل اور اَن پڑھ ہے اور اسے اپنے کام سے فرصت بھی نہیں ہے کیا وہ یہ اہلیت و استطاعت رکھ سکتاہے کہ کتابیں پڑھ کر ہی خود کوئی مسئلہ معلوم کر لے، کجا یہ کہ وہ براہِ راست قرآن وحدیث سے مسئلے نکالے اور اس پر عمل کرے۔ہر عاقل کے نزدیک اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔ لامحالہ وہ جاہل شخص کسی عالم سے پوچھے گا۔ وہ عالم اگر خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتا تو وہ اسے ان کتب سے پڑھ کر بتائے گا جس میں کسی عالمِ مجتہد کے اَخذ و مرتب کردہ مسائل لکھے ہوں گے، اور اس مجتہد عالم نے وہ مسائل قرآن و سنّت ہی سے نکال کر بیان کئے ہوں گے۔ تو ایک جاہل یا عالمِ غیر مجتہد جو اجتہاد کے ذریعے خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں رکھتا اس پر یہ ذمّے داری عائد کر دینا کہ وہ خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالے اس کے لئے تكليف ما لا يُطاق ہے (یعنی ایسی تکلیف ہے جس کی وہ طاقت و اہلیت ہی نہیں رکھتا)، بلکہ حکمِ قرآنی کے صریح خلاف ہے۔ معمولاتِ شرعیہ سے قط...

*شہادتِ عثمان دورانِ تلاوتِ قرآن حضور ﷺ کی علم غیب سے بصارت دینا :-*

*شہادتِ عثمان دورانِ تلاوتِ قرآن حضور ﷺ کی علم غیب سے بصارت دینا :-*  حضرت ِسیِّدُنا عبداللّٰہ ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت ِسیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ اللہ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ’’اے عثمان !تم سورۂ بقرہ پڑھتے ہوئے شہید ہوگے اور تمہارا خون اِس آیت پر پڑے گا :   ’’ فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُ *(مستدرک ج۴ ص ۲۶حدیث ۱۱۶۴)*  اپنی خلافت کے آخری ایام میں جب حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ آزمائش میں مبتلاء ہوئے تو بھی نفلی روزے رکھتے اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے حتّٰی کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کی شہادت ہوئی تو اس وقت بھی تلاوت کررہے تھے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے جسم مبارک سے نکلنے والے خونِ شہادت کے قطرے سامنے کھلے ہوئے قرآن پاک کی اِسی آیت پر پڑے جس کے بارے میں غیب داں آقا ، دو عالَم کے داتا صَلَّی...

*ASLI MUSHRIK KOUN.?*_

*ASLI MUSHRIK KOUN.?*_ _*Kuch Dino Se Wahabiyo ne Bholi Bhali Awam ko Gumrah Karne Ke liye Ek Post Bana Kar Send Karna Shuru kiye hai Aur Usme Sab Par Shirk ke Fatwe Laga Diye...*_ _*✒️To Unke Kiye Hue Juthe Aitraaz Ke Jawab Isme Mojud hai Zarur Padhe Aur Ise Zyada se Zyada logo Tak Pahochae Take Log Inki Napaak Sazish ko Pehchane...*_ _*Aitraaz : 1*_ _*📛Shirk # 1: Aaj ka Musalman Keta hai"Bhar Do Jholi Meri Ya Muhammad..*_ _*📚"QURAN Ka Jawaab "Aey Nabi Insab Se Keh Dijiyee Ki Mai Tumhare Nafa Or Nuqsan KaIkhtiyaar Nahi Rakhta Ye Sirf ALLAH ke Paas Hai"*_ _*📕Surah Jinn Ayat # 21, Surah Al-Aaraf # 187*_ _*🚫Aitraaz Ka Jawab:-Bhar do jholi meri ya muhammad, Al-Quran-> Aur jo kuch tumhe Rasool ata farmayein wo lo Aur Jisse Roke to Ruk Jao*_ _*📕Surah Al-hashr ayaat no.7*_ _*📚Al-Quran- Aur inhe kya bura laga yehi na ke Allah aur Rasool ne inhe apne fazl se gani kar diya..*_ _*📕Surah Al-Tauba ayaat no.74*_ _*Gani Allah ne Kiya Aur Pet me Dard Wahabiyo ko Hua..*_ ...

*جب پاؤں سن ہوجاے یا رسول اللّه صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہو :-*

*جب پاؤں سن ہوجاے یا رسول اللّه صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہو :-* حضرت عبدالرحمن بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما کا پاؤں سن ہوگیا۔ ان سے یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیک جو سب سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کیجئے یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : یا محمداہ! اور آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا *(المرجع السابق ، ص۴۳)* *تنہا سوار کے لئے تنہاہی میں موت اور تنہاہی حشر میں اٹھنے کی بصارت :-* حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جذبہ جاں نثاری حضرت ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو میرا اونٹ بہت لاغر اور ضعیف تھا۔ میرا خیال تھا کہ چند روز مزید ٹھہرکر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے جا ملوں گا۔ میں نے کئی روز تک اپنے اونٹ کو چارا کھلایا بعدازاں میں عازم سفر ہوا۔ جب ایک جگہ پہنچا تو میرے اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی جس کے باعث وہ آگ...

*حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم حضور ﷺ نے جن کی آخری غذا دودھ پینا بتائی :-

*حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم حضور ﷺ نے جن کی آخری غذا دودھ پینا بتائی :- حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ماں باپ کو بھی سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ مکہ کی سخت گرم اور ریتلی زمین میں ان کو عذاب دیا جاتا اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اس طرف گزر ہوتا تو صبر کی تلقین فرماتے اور جنت کی بشارت فرماتے ، آخر ان کے والد حضرت یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سی حالت تکلیف میں وفات پاگئے کہ ظالموں نے مرنے تک چین نہ لینے دیا اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانے بھی سخت تکالیف اٹھائیں ابو جہل نے ان کی ناف کے نیچے بر چھا مارا جس سے وہ شہیدہو گئیں مگر اسلام سے نہ ہٹیں حالانکہ بوڑھی تھیں ضعیف تھیں مگر اس بد نصیب نے کسی چیز کا خیال نہیں کیا۔ اسلام میں سب سے پہلی شہادت ان کی ہے اور اسلام میں سب سے پہلی مسجد حضرت عمار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بنائی ہوئی ہے۔ جب حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلّ...