*شہادتِ عثمان دورانِ تلاوتِ قرآن حضور ﷺ کی علم غیب سے بصارت دینا :-*

*شہادتِ عثمان دورانِ تلاوتِ قرآن حضور ﷺ کی علم غیب سے بصارت دینا :-*
 حضرت ِسیِّدُنا عبداللّٰہ ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت ِسیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ اللہ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ’’اے عثمان !تم سورۂ بقرہ پڑھتے ہوئے شہید ہوگے اور تمہارا خون اِس آیت پر پڑے گا :  
’’ فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُ *(مستدرک ج۴ ص ۲۶حدیث ۱۱۶۴)*
 اپنی خلافت کے آخری ایام میں جب حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ آزمائش میں مبتلاء ہوئے تو بھی نفلی روزے رکھتے اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے حتّٰی کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کی شہادت ہوئی تو اس وقت بھی تلاوت کررہے تھے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے جسم مبارک سے نکلنے والے خونِ شہادت کے قطرے سامنے کھلے ہوئے قرآن پاک کی اِسی آیت پر پڑے جس کے بارے میں غیب داں آقا ، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر دی تھی ۔ چنانچہ مُحَدِّثِین و مُؤَرِّخِین فرماتے ہیں کہ جب مِصْری لوگ قتل کے اِرادے سے حضرت ِسیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے گھر میں گُھسے تو وہ اتنے پُر خَطر حالات میں بھی قرآن شریف کھولے ہوئے یہی رُکوع پڑھ رہے تھے ایک شَقِی یعنی بدبخت نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر تلوار ماری جس سے خون نکل کر اُسی لفظ پر پڑا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ قرآن پاک کو صاف کرتے تھے اور فرماتے تھے : ’’ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! سب سے پہلے اِسی ہاتھ سے قرآن لکھا ہے۔‘‘ ان مِصْریوں میں سے سب بُرے حال پر مَرے، کچھ ہی عرصہ کے بعد لوگوں نے اُس قرآن پاک کی زِیارت کی اور اس پر خون کا اثر دیکھا ۔ *(درمنثور۱/۳۴۰)* *(تفسیر نعیمی۱/۶۸۵)*
واسِطہ نبیوں کے سَرْوَر کا واسِطہ صِدِّیق اور عُمَر کا
واسِطہ عثمان وحیدر کا یا اللہ مِری جھولی بھر دے
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-