*اِستغاثہ کے ثبوت پر مبنی مدلّل جوابات پیش کریں گے۔*

 *اِستغاثہ کے ثبوت پر مبنی مدلّل جوابات پیش کریں گے۔*
اِستغاثہ بالغیر کو شِرک قرار دینے کے لئے سب سے پہلے اِسے داخلِ عبادت کر کے کہا جاتا ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت شِرک ہے لہٰذا اللہ ربّ العزّت کے سوا کسی اور سے اِستعانت و اِستغاثہ بھی شِرک ہے- جن آیاتِ مبارکہ میں غیراﷲ کو پکارنے والوں کی مذمّت کی گئی ہے۔ اِسی چیز کو بنیاد بنا کر یہ اِستدلال کیا جاتا ہے کہ مدد چاہنا اور پکارنا صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے لہٰذا کسی اور سے کیا گیا اِستغاثہ صفاتِ اُلوہیت میں شِرک تصور ہوگا۔ یہ اِستنباط بذاتِ خود غلط ہے۔ ذیل میں ہم اِس تصوّر کو واضح کریں گے-
*ہر اِستغاثہ عبادت نہیں ہوتا:-*
 آیاتِ مبارکہ میں لفظِ ’’دُعا ‘‘ عبادت کے معنی میں اِستعمال ہوا ہے۔ قرآنِ مجید میں لفظِ ’’دُعا ‘‘ ہر جگہ عبادت کے معنی میں مستعمل نہیں ورنہ بھٹکے ہوئے اَذہان تو (معاذ اﷲ) انبیاء علیھم السلام اور خود ذاتِ باری تعالیٰ پر بھی بہتان تراشی سے باز نہیں آتے اور دُور کی کوڑی لا کر اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کی سعیء ناکام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مثلاً *قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے :* 1. فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ.   *(آل عمران، 3 : 61)*
تو آپ فرما دیں کہ آجاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو بلا لیتے ہیں-
2-فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا. 
*(القصص، 28 : 25)*
چنانچہ ان (لڑکیوں) میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی (اور) کہا میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے جو ہماری خاطر (ہماری بکریوں کو) پانی پلایا تھا اس کا بدلہ دیں-
3- ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا *(البقره، 2 : 260)*
پھر (انہیں ذبح کر کے) ان کا ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو، پھر انہیں بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے-
4-. يَوْمَ نَدْعُواْ كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ. 
 *(الاسراء، 17 : 71)*
جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔
معلوم ہوا کہ اگر دُعا کی نسبت کافر اور مشرک کی طرف کریں تو اس کا معنی عبادت ہوگا ورنہ سیاق و سباق سے معنی بدلتا رہے گا۔ اِستغاثہ کے عدم جواز میں جو آیات بطور اِستدلال پیش کی جاتی ہیں، اُن میں دُعا کی نسبت کفار و مشرکین کی طرف ہے لہٰذا وہاں معنی عبادت ہی کیا جائے گا لیکن اُن سے اِستغاثہ کا عدم جواز بالکل ثابت نہیں ہوتا، اِس لئے کہ جن مقبولانِ بارگاہِ الٰہی سے اِستغاثہ کیا جاتا ہے اُنہیں قطعاً قابلِ عبادت نہیں سمجھا جاتا -
-----------------------------------
*ما افوق الاسباب اُمور میں مجاز کا جواز:-*
مافوق الاسباب اُمور میں مجاز کا اِستعمال اِس لحاظ سے بھی جائز ہے کہ وہ بظاہر تو اگرچہ اِستغاثہ ہوتا ہے مگر اِس سے مفہوم اور مُراد توسل ہوا کرتا ہے، اور مستعانِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو جانا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اِستغاثہ کا مجازی معنی میںاِستعمال قرآنِ مجید میں کئی صورتوں میں ہوا ہے، جن میں سے اکثر استعمالِ مجاز ما فوق الاسباب کے لئے ہوا ہے۔ قرآنِ حکیم میں مجاز کا اِستعمال جس کثرت کے ساتھ ہوا ہے اُس میں سے چند مقامات کا ہم یہاں ذِکر کریں گے تاکہ قارئین کے اذہان و قلوب میں یہ تصوّر اچھی طرح سے راسخ ہو جائے کہ حقیقت و مجاز کی تقسیم سے اِنکار کی صورت میں کس قدر خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
*جبرئیل علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ؟:-*
------------------------------------
حضرت جبرئیل علیہ السلام جب اﷲ کے اِذن سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وِلادت کے سلسلے میں حضرت مریم علیھا السلام کے پاس اِنسانی رُوپ میں آئے تو اُن سے کہا اِنَّمَا أنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِأهَبَ لَکِ غُلَاماً زَکِيًّا *(مريم، 19 : 19)*
(جبرئیل نے) کہا میں تو فقط تیرے ربّ کا بھیجا ہوا ہوں (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں-
آیت میں جبرئیل امین علیہ السلام کا قول اُمورِ مافوق الاسباب میں سے ہے کیونکہ شادی اور اِزدواجی زندگی کے بغیر بیٹے کا ہونا اور اس پر یہ کہنا کہ : ’’میں تجھے پاکیزہ بیٹا دوں‘‘ مافوق الاسباب اُمور میں مدد کی بہت بڑی قرآنی مثال ہے اور اسبابِ عادیہ کے بغیر اِس دنیا میں اِس کا تصوّر بھی محال ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض توسل کی نیت سے اﷲ ربّ العزّت کے کسی برگزیدہ بندے کے وسیلے سے اولاد طلب کرے تو کچھ نادان دوست فی الفور شِرک کا فتویٰ لگا دینے سے نہیں چوکتے جبکہ کوئی غیرخدا۔۔۔ جبرئیل علیہ السلام۔۔۔ کہے کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اور اﷲ تعالیٰ خود اُس کا ذِکر قرآنِ مجید میں کرے تو کیا یہ اُسی طرح شِرک نہیں ہوگا؟ مانگنے کی صورت میں تو مانگنے والا پھر بھی اِنسان ہی رہتا ہے مگر یہ کہنا کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اِس جملے کو اگر مجازی معنی پر محمول نہ کیا جائے تو حقیقی معنوں میں تو یہ سراسر خدا بننے کے مترادف ہے۔ اولاد سے نوازنا فعلِ اِلٰہی ہے اور بندے کا کام اُس سے اُس کی عطا کی بھیک مانگنا ہے۔ بندے کا غیراﷲ سے مانگنا اگر شِرک ہے تو پھر کسی دینے والے غیرِخدا کا قول یہ کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ تو بدرجۂ اولیٰ شِرک قرار دیا جانا چاہئیے۔ اِس مقام پرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جبرئیلِ امین علیہ السلام تو ’’لِأهَبَ لَکِ غُلَاماً‘‘ کہہ کر بھی (معاذ اﷲ) مشرک نہ ہوئے بلکہ اُن کا قول، قولِ حق رہا تو اُن کے اس قول کی آخر کیا توجیہہ ہوگی؟
*جواب :* یہ قول تو اگرچہ روح الامین کا ہے کہ میں بیٹا دیتا ہوں مگر اِس سے مُراد یہ ہے کہ وہ بیٹا جو اللہ تبارک و تعالی عطا فرمانے والا ہے ’’میں‘‘ اُس کا سبب، وسیلہ اور ذریعہ بنتا ہوں۔ پس مذکورہ آیتِ کریمہ میں ’’لِأهَبَ لَکِ غُلَاماً‘‘ میں مدد دینے کا عمل پایا گیا مگر اس سے مُراد محض توسل ہے اور ان کا بیٹا دینے کا قول مجازِ قرآنی کی ایک عمدہ مثال ہے-
-----------------------------------
*سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ:-*
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق کیا اور اُنہیں شِرک سے باز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کی طرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے : 
أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
*(آل عمران، 3 : 49)*
بے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفا یاب کرتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بے شک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو
*اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے :*
1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اُسے زِندہ کرنا 2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج 3۔ سفید داغ (برص) کا علاج 4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا) 5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانا- 
یہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’أَخْلُقُ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔ر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُس سے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی طرف کی۔ 
چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا : ’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشر کی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔ 
پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو‘‘۔ *اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں،* بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائی ہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲ ہی آگاہ کرتا ہے مگر اُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علمِ غیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔- 
------------------------------------
*ﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ:-*
سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھی اُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ *اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :*
وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي 
*(المائده، 5 : 110)*
اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتے تھے-
اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اور زِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي 
*(المائده، 5 : 110)*
پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔
رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہے  کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا : فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ’’پھر تو اُس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنے لگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِن آیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔ اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔
اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ کارسازِ حقیقی وُہی ہے-
------------------------------------
*کیا مخلوق کو دُور کا علم ہوسکتا ہے:-*
ہاں کچھ لوگ اِس وہم میں بھی پائے جاتے ہیں کہ جب دُور سے کسی کو کام کہا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ پُکارے جانے والے کو دُور سے معلوم ہے کہ فلاں پکارنے والا ہے اور وہ پکارنے والے کو جانتا ہے۔ اِس بناء پر اس میں علمِ غیب بھی پایا گیا اور چونکہ علمِ غیب میں اِقتدار اعلیٰ بھی ہے تو اِن دو چیزوں کی وجہ سے یہ شِرک اور ناجائز ہے۔ اِس خلطِ مبحث کا جواب بالکل سادہ ہے کہ جہاں ہم آج کی سائنسی ترقی سے حاصل ہونے والے فوائد میں ایسا علم اِنسانیت کو عطا ہوتا دیکھ رہے ہیں وہاں کلامِ مجید فرقانِ حمید میں بھی یہ دونوں پہلو غیراﷲ کے لئے ثابت ہیں، مگر اِس کے باوجود وہ شِرک سے آلودہ ہونے کی بجائے ربّ کا کلام ہے، یعنی اس میں دُور سے جاننا اور کام کرنے پر قدرت دونوں کا ذکر پایا جاتا ہے-
سورۂ نمل میں سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں اِرشاد فرمایا :
يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ.
*(النمل، 27 : 38)*
اے سردارو! تم میں سے کون ہے کہ اُس کا تخت میرے سامنے لے آئے قبل اِس کے کہ وہ فرمانبردار ہو کر میرے سامنے حاضر ہو
بلقیس کا تخت سیدنا سلیمان علیہ السلام کے دربار سے 900میل کی مسافت پر پڑا تھا جسے درباریوں میں سے کسی نے دیکھا تک نہ تھا۔ اِس کے باوجود کسی نے آپ علیہ السلام سے یہ نہیں پوچھا کہ اے سلیمان علیک السلام! تخت تو سینکڑوں میل کی مسافت پر پردۂ غیب میں پڑا ہے اور آپ ہیں کہ اُس کی حاضریء دربار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا آپ ہماری نسبت یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ ہم یہاں بیٹھے دُور کی شے کے بارے میں علم رکھتے ہیں؟ 
*اور ہمیں علمِ غیب حاصل ہے؟*
سلیمان علیہ السلام یہ عقیدہ رکھتے کہ 900 میل کی مسافت پر پڑے ہوئے تخت کے بارے میں اُن کے درباریوں میں سے کسی کو بھی یہ علم نہیں کہ وہ کہاں پڑا ہے، اور اُسے کس طرح اِتنی دُور پہنچ کر لایا جا سکتا ہے؟ تو آپ اُن سے کبھی یہ نہ پوچھتے کہ کون لائے گا؟ بلکہ باری تعالیٰ سے عرض کرتے کہ اے اﷲ! ملکۂ بلقیس کا تخت میرے پاس پہنچا دے کیونکہ تو ہی قادرِ مطلق ہے۔
مختصر یہ کہ ہمیں قرآنِ مجید سے یہ سبق ملتا ہے کہ دُور کی شے کے علم کا پایا جانا شِرک کے ضمن میں نہیں آتا۔ پس اگر سلیمان علیہ السلام یہ خیال کرلیں اور اِس بنیاد پر درباریوں کو تخت حاضر کرنے کا حکم فرما دیں اور اس کے باوجود مُشرک نہ ہوں اور اگر دورِ حاضر کے مسلمان یہ اِعتقاد رکھ لیں کہ داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنھم، غوثِ اعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنھم، حضرت سلطان العارفین سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ، اور دیگر اولیائے کاملین اور صلحائے عِظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین ہمیں جانتے ہیں اور ہمارے بگڑے حالات سنوارنے پر منجانب اللہ قدرت رکھتے ہیں، 
*تو یہ کیسے شِرک ہوگا؟*
جن وُجوہ کی بناء پرسیدنا سلیمان علیہ السلام کے معاملہ میں شِرک ثابت نہ ہو سکا، اسی سبب سے یہاں بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اَولیائے کرام کو بھی کشف اُسی ذاتِ حق نے عطا فرمایا ہے جس نے سلیمان علیہ السلام کے درباریوں اور بالخصوص آصف برخیا کو عطا فرمایا تھا۔ قادرِ مطلق جب آج بھی وہی ہستی ہے جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے عہدِ مبارک میں تھی تو آج بھی اَحکام اُسی طرح مرتب ہوں گے۔ *دِین میں نئے نئے تصوّرات و اِعتقادات پیدا کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟*
کشف فاروقی :- 
 يَا سَارِيَ الْجَبَل  اے  ساریہ! پہاڑ کی اوٹ لے۔
*(مشکوٰة المصابيح : 546) (دلائل النبوّه لأبی نعيم : 507) (کنزالعمال، 12 : 35788)*
ہ اِرشاد فرما کر آپ دوبارہ اُسی طرح خطبہ میں مشغول ہو گئے۔ ہزاروں میل کی دُوری پر واقع مسجدِ نبوی میں خطبۂ جمعہ بھی دے رہے ہیں اور اپنے سپہ سالار کو میدانِ جنگ میں براہِ راست ہدایات بھی جاری فرما رہے ہیں۔ نہ اُن کے پاس ریڈار سسٹم تھا، نہ موبائل فون۔۔۔ کہ جس کے ذرِیعے میدانِ جنگ کے حالات سے فوری آگہی ممکن ہوتی۔ یہ فقط اﷲ ربّ العزّت کی عطا کردہ رُوحانی قوّت و اِستعداد تھی جس کی بدولت اندر کی آنکھ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ حضرت ساریہ بن جبل رضی اللہ عنھم نے سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنھم کا پیغام موصول کیا اور اُس پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہاڑ کی اوٹ لے کر فتح پائی۔ دُشمن کا حملہ ناکام رہا اور عساکرِ اِسلام کے جوابی حملے سے فتح نے اُن کے قدم چومے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-