*جب پاؤں سن ہوجاے یا رسول اللّه صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہو :-*

*جب پاؤں سن ہوجاے یا رسول اللّه صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہو :-*
حضرت عبدالرحمن بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما کا پاؤں سن ہوگیا۔ ان سے یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیک جو سب سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کیجئے یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : یا محمداہ! اور آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا *(المرجع السابق ، ص۴۳)*

*تنہا سوار کے لئے تنہاہی میں موت اور تنہاہی حشر میں اٹھنے کی بصارت :-*
حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جذبہ جاں نثاری حضرت ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو میرا اونٹ بہت لاغر اور ضعیف تھا۔ میرا خیال تھا کہ چند روز مزید ٹھہرکر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے جا ملوں گا۔ میں نے کئی روز تک اپنے اونٹ کو چارا کھلایا بعدازاں میں عازم سفر ہوا۔ جب ایک جگہ پہنچا تو میرے اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی جس کے باعث وہ آگے نہ چل سکا میں نے اپنا مال و متاع اپنی پشت پر رکھا اور چل دیا۔ راستے میں سخت گرمی سے دوچار ہونا پڑا۔ لشکر اسلام کے پاس پہنچا تو لوگوں نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کوئی شخص پیدل چلا آرہا ہے۔ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ابو ذر غفاری ہوں گے۔ جب میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے قیام کی حالت میں فرمایا : خوش رہو ابو ذر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تم تنہا سفر کرتے ہو تنہاہی اس دنیا سے جاؤ گے اور تنہاہی بروز حشر اٹھوگے۔
 کہتے ہیں جب ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہوا تو آپ تنہاہی تھے۔ عبداللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بحالت وفات پایا تو کہا۔ سچ فرمایا تھا خدا کے صادق و مصدوق رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ۔ صاحب مستقصی نے لکھا ہے کہ میں نے حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مزار کی زیارت کی ہے۔ مجھے وہاں وہ کیف و جذب حاصل ہوا جو دوسرے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مزار پر نہ پاسکا۔ میں نے ان کی قبر کے پاس نماز ادا کی جونہی میں سر بسجود ہوا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تربت انور سے مشک و عنبر کی خوشبو نکلی جس نے میرے مشام جاں تک کو معطر و معنبر کردیا۔ *( شواہد النبوۃ ، رکن رابع ، ص۱۲۵)*
*اگر کسی دن لوگ تم سے پوچھیں کہ غم زدہ کیوں ہو؟*
*تو سچائی کے ساتھ جواب دینا کہ استغفار کی کمی اور قرآن کو چھوڑ دینے کی وجہ سے*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-