بدنگاہی حرام کیوں ؟

بدنگاہی حرام کیوں ؟
اللہ تعالی نے ہر مرد کی تخلق ایسی کی ہیں جب بھی مرد کی نظر کسی عورت پر پڑھتی ہیں اس کے دل میں برے خیالات آنا شروع ہو جاتے ہیں مرد کے لیے برے خیالات سے بچنا ناممکن جیسا ہیں اللہ تعالی کی محبت اتنی سستی نہیں ہر کسی کو مل جائے جب تک کوئی بھی مرد بد نگاہی سے نہیں بچ سکتا نہ وہ اللہ تعالی کی حقیقی محبت حاصل کرسکتا ہے نہ ہی اس کو اپنی بیوی سے حقیقی محبت ہو سکتی ہے اس لیے اللہ تعالی نے ہر مسلمان مرد پر لازم کیا کسی بھی عورت پر نظر نہ ڈالے اس طرح عورت پر بھی لازم کیا وہ اپنے شوہر کے سامنے کسی بھی غیر عورت کی تعارف کرے نہ اس کے سامنے آنے دے اگر عورت یہ سمجھتی ہے اس کا شوہر بد نگاہی نہیں کرتا تو وہ غلطی پر ہیں کوئی بھی مرد اگر بد نگاہی کے گناہوں سے بچ جائے تو وہ متقی اور پرہیز گار بن جائیں اور کوئی بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ متقی اور پرہیز گار نہیں ہو سکتا ان کے لیے بھی یہی حکم تھا اگر مرد کو اپنی بیوی سے حقیقی محبت ہوتی تو وہ اس کو آخرت کے عذاب سے اور غیر مرد کے خیالی زنا کے خیال سے بچاتا اور اسے ہر مرد سے پردے کا حکم دیتا عورت کے لیے اللہ تعالی کی اور اپنے شوہر کی حقیقی محبت اپنے آپ کو ہر غیر مرد سے چھپانے میں اور اپنے سامنے اپنے شوہر کو غیر عورت سے بچانے میں ہیں سمجھدار کے لیے اس نصیحت میں ہدایت بھی ہے اللہ تعالی اور اپنی بیوی کی سچی محبت بھی ہے نہ سمجھنے والوں کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہیں 
*اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-