اللہ تعالی کی راہ میں شہید ہونے والے دنیا والوں کے اعمال سے واقف ہوتے ہیں اپنے پچھلوں کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں :-*

اللہ تعالی کی راہ میں شہید ہونے والے دنیا والوں کے اعمال سے واقف ہوتے ہیں اپنے پچھلوں کے نیک اعمال سے خوش ہوتے ہیں :-*
 ترجمۂ کنز الایمان 
شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم ۔ *( سورۃ آل عمران آیت نمبر 170)*
 تفسیر صراط الجنان 
{فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ:اس پر خوش ہیں جو اللہنے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے ۔ } شہداء کرام کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، انعام و احسان، اعزازو اکرام اور موت کے بعد اعلیٰ قسم کی زندگی دئیے جانے پر خوش ہیں نیز اس پر خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا مقرب بنایا، جنت کا رزق اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں اور جنت کی منزلیں حاصل کرنے کے لئے شہادت کی توفیق عطا فرمائی۔ نیز وہ اس بات پر بھی خوشی منارہے ہیں کہ ان کے بعد دنیا میں رہ جانے والے ان کے مسلمان بھائی دنیا میں ایمان اور تقویٰ پر قائم ہیں اور جب وہ بھی شہید ہوکر اِن کے ساتھ ملیں گے تو وہ بھی اِن کرم نوازیوں کو پائیں گے اور قیامت کے دن امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-