انبیاء کرام کی مدد اور وسیلے کا انکار کرنے والے دلیل دیتے ہیں دعا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہم جواب دیتے ہیں دعا کے معنی مانگنا اور پکارنا جب دعا اللہ تعالی سے ہوگی تب عبادت ہوگی جس الفاظ کے زیادہ معنی ہو وہاں پر صرف الفاظ نہیں نیت بھی دیکھی جائے گی اگر ہر دعا عبادت ہے تو اس آیات میں کون کس کی عبادت کر رہا ہے جواب دو :-

 انبیاء کرام کی مدد اور وسیلے کا انکار کرنے والے دلیل دیتے ہیں دعا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہم جواب دیتے ہیں دعا کے معنی مانگنا اور پکارنا جب دعا اللہ تعالی سے ہوگی تب عبادت ہوگی جس الفاظ کے زیادہ معنی ہو وہاں پر صرف الفاظ نہیں نیت  بھی دیکھی جائے گی اگر ہر دعا عبادت ہے تو اس آیات میں کون کس کی عبادت کر رہا ہے جواب دو :- 

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌۖۚ-وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا(۴۴)

  ترجمۂ کنز الایمان             

ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ *(سورۃ احزاب آیت نمبر 44)* 

 تفسیر صراط الجنان              

{ تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ  : ان کے لیے ملتے وقت کا ابتدائی کلام سلام ہوگا۔} ملتے وقت سے مراد یا موت کا وقت ہے یا قبروں  سے نکلنے کا یا اس سے جنت میں  داخل ہونے کا وقت مراد ہے ۔ مروی ہے کہ حضرت عزرائیل  عَلَیْہِ السَّلَام  کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں  فرماتے ۔ حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ جب حضرت عزرائیل  عَلَیْہِ السَّلَام   مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں  تو کہتے ہیں  : تیرا ربّ تجھے سلام فرماتا ہے اور ایک روایت میں  یہ بھی ہے کہ مومنین جب قبروں  سے نکلیں  گے تو فرشتے سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں  سلام کریں  گے۔  *( جمل، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۶ / ۱۸۰ ، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۴  ، ۳ / ۵۰۴ ، ملتقطاً)*

Comments

  1. MAA SHAA ALLAH
    Umdah kaawish, isme Unwaan se post karen jis'se Google search karne wale ki aasani se pahunch ho sake.
    WASEELE Ka SABOOT
    WASEELE Ka BAYAN

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-