اللہ‎ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی مدد اللہ‎ تعالیٰ کی ہی مدد ہوتی ہیں جو اس کو غیر اللہ‎ کی مدد کہے اور شرک کہے شرک کا فتویٰ تو اسی پر ہونا چاہئے اللہ‎ تعالیٰ کی مرضی کے بینا کوئی کسی کا مدد گار نہیں ہو سکتا جو اسباب کو نہیں مانتے کیا وہ یہ عقیدہ رکھتے خدا خود آکے ان کی مدد کرے :-

 اللہ‎ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی مدد اللہ‎ تعالیٰ کی ہی مدد ہوتی ہیں جو اس کو غیر اللہ‎ کی مدد کہے اور  شرک کہے شرک کا فتویٰ تو اسی پر ہونا چاہئے اللہ‎ تعالیٰ کی مرضی کے بینا کوئی کسی کا مدد گار نہیں ہو سکتا جو اسباب کو نہیں مانتے کیا وہ یہ عقیدہ رکھتے خدا خود آکے ان کی مدد کرے :- 

ترجمۂ کنز العرفان 

یاد کرو اے حبیب! جب تم مسلمانوں سے فرمارہے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کرتمہاری مدد کرے۔ ہاں کیوں نہیں ،اگر تم صبرکرو اور تقویٰ اختیارکرو اور کافر اسی وقت تمہارے اوپر حملہ آور ہوجائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور اللہ نے اس امداد کو صرف تمہاری خوشی کے لئے کیا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے جو زبردست ہے حکمت والا ہے۔ *(سورۃ آل عمران آیت نمبر 126)* 

 تفسیر صراط الجنان          

{ وَ  مَا  جَعَلَهُ  اللّٰهُ  اِلَّا  بُشْرٰى  لَكُمْ : اور  اللہ  نے اس امداد کو صرف تمہاری خوشی کے لئے کیا۔}  فرمایا گیا کہ اللہ  تعالیٰ نے فرشتوں کو اتار کر جو تمہاری مدد فرمائی وہ صرف تمہاری خوشی کے لئے کی اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو اور دشمن کی کثرت اور اپنی قِلَّت سے تمہیں پریشانی او ربے قراری نہ ہو ۔ مسلمانوں کو ویسے ہی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حقیقی مدد اسباب سے نہیں بلکہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہوتی ہے لہٰذا چاہئے کہ بندہ صرف اَسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الاسباب پر نظر رکھے اور اسی پر توکل کرے۔    

 *صحابۂ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی عظمت:*            

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی خوشی     اللہ  تعالیٰ کو محبوب ہے کہ ان کی خوشی کیلئے ان کی مدد کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-