دور سے دیکھنا شرک نہیں ہوتا ادنیٰ درجے کا جنتی ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا اعلی درجے کا جنّتی صبح و شام اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کریگا :-

 دور سے دیکھنا شرک نہیں ہوتا ادنیٰ درجے کا جنتی ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا اعلی درجے کا جنّتی صبح و شام   اللّٰہ  تعالیٰ کا دیدار کریگا :- 

  ترجمۂ کنز العرفان   

کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔ *(سورۃ القیامۃ آیت نمبر 22/ 23)* 

 تفسیر صراط الجنان    

{ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌ : کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں   گے۔}  اس آیت اور اس  کے بعد والی آیت میں   مخلص  مومنین کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس دن کچھ چہرے ایسے ہوں   گے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت و  کرم پر مَسرور ہوں گے اور ان سے اَنوار پھوٹ رہے ہوں   گے  اور انہیں  اللّٰہ  تعالیٰ کے دیدار کی نعمت سے سرفراز کیا  جائے گا۔ *(خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۲۲ - ۲۳ ، ۴/ ۳۳۵ ، روح البیان،القیامۃ، تحت الآیۃ:۲۲ - ۲۳ ، ۱۰ /۲۵۰)* 

 *جنتیوں میں سب سے زیادہ عزت والا شخص:* 

حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے روایت ہے،رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے  ارشاد فرمایا:’’ ادنیٰ درجے کا جنتی اپنے باغات، بیویوں ،خادموں  اور تختوں  کو ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا، اللّٰہ  تعالیٰ کے نزدیک ان میں  سب سے زیادہ عزت والا وہ ہو گا جو صبح و شام   اللّٰہ  تعالیٰ کے  دیدار سے مُشَرَّف ہوگا۔ اس کے بعد  نبی ٔکریم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے پڑھا:   ’’ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ ( ۲۲)  اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ‘‘  *(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ القیامۃ، ۵ /  ۲۱۸ ، الحدیث:  ۳۳۴۱ )* 

{ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ : اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔}  اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں   مومنین کو  اللّٰہ  تعالیٰ کا دیدارہو گا، یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے اور اس پر قرآن و حدیث اور اِجماع کے کثیر دلائل قائم ہیں   اور یہ دیدار کسی کَیْفِیَّت اور جِہَت کے بغیر ہوگا۔ 

 *نوٹ:* اس عقیدے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورۂ اَنعام کی آیت نمبر  103 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-