حضور ﷺ نے علم غیب سے جانتے ہیں کون کتنے مسلمانوں کی شفاعت کریگا گناہگار مسلمانوں کی شفاعت ہو گی :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے جانتے ہیں کون کتنے مسلمانوں کی شفاعت کریگا گناہگار مسلمانوں کی شفاعت ہو گی :-   

ترجمۂ کنز العرفان       

تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی *۔(سورۃ المدثر آیت نمبر 48)* 

 تفسیر صراط الجنان        

{ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَ  : تو انہیں     سفارشیوں  کی سفارش  کام نہ دے گی۔}  یعنی انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام     فرشتے،شُہداء  اور صالحین جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے شفاعت کرنے کا اِذن دیا ہے وہ ایمانداروں کی شفاعت کریں گے اور کافروں کی شفاعت نہیں کریں گے، لہٰذا جو لوگ ایمان نہیں  رکھتے انہیں  قیامت کے دن شفاعت مُیَسَّر بھی نہ ہو گی۔ *(مدارک، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۸، ص ۱۳۰۱ ، جلالین مع صاوی، المدثر، تحت الآیۃ: ۴۸، ۶ /    ۲۲۷۴ ، ملتقطاً)*   

 اس آیت سے ثابت ہوا کہ قیامت کے دن گناہگار مسلمانوں کے لئے شفاعت ہو گی اور انہیں  شفاعت کام  بھی آئے گی اور یہ بات کثیر اَحادیث سے بھی ثابت ہے، جیسا کہ حضرت  عبداللّٰہ بن شقیق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے  ہیں : ’’میں اِیلیا کے مقام پر ایک قافلے کے ساتھ تھا،ان میں سے ایک شخص نے کہا:میں نے  رسولُ  اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کے ذریعے بنو تمیم کی آبادی کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے۔ عرض کی گئی:  یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ، کیا وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہو گا؟ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! میرے علاوہ کوئی اور ہو گا۔ *(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۱۱ - باب منہ،  ۴ / ۱۹۹، الحدیث: ۲۴۴۶)*   

اور حضرت حارث بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے،نبی ٔاکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد  فرمایا: ’’میری امت کے بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کی شفاعت کے ذریعے قبیلۂ مُضَر کے لوگوں سے زیادہ لوگ بخشے جائیں  گے۔ *(ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب صفۃ النار،۴/ ۵۳۱، الحدیث: ۴۳۲۳)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-