انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے

 انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے:-* 

 کفار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں  اور انبیاء ِکرام   عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے پھر اُنہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے۔ اس پر بہت سے شرعی دلائل قائم ہیں ،ان میں   سے دو یہاں ذکر کئے جاتے ہیں ۔  

(1) حضرت ابو درداء   رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’بے شک اللہ  تعالیٰ نے انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے جسموں کو کھانا زمین پر حرام فرما دیا ہے، پس  اللہ  تعالیٰ کا نبی زندہ ہے ،اسے رزق دیا جاتا ہے۔ *(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ  صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،  ۲ / ۲۹۱ ، الحدیث:  ۱۶۳۷)* 

( 2 )  حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے،سیّد المرسَلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’انبیاء ِکرام   عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اپنی قبروں میں   زندہ ہیں   اور ان میں نماز پڑھتے ہیں ۔ *(مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک، ثابت البنانی عن انس،  ۳  /  ۲۱۶ ، الحدیث:  ۳۴۱۲ )*   اعلیٰ حضرت   رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : 

اَنبیا کو بھی اجل آنی ہے 

  مگر ایسی کہ فقط آنی ہے 

پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات 

مثلِ سابق وہی جسمانی ہے

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-