نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تو سب سلام پڑھتے ہیں آخر حضور ﷺ سے عداوت کیوں ہیں

*نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام پر تو سب سلام پڑھتے ہیں آخر حضور ﷺ سے عداوت کیوں ہیں :- 
 ترجمۂ کنز العرفان         
اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ الیاس پرسلام ہو۔ بیشک ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں سے ہے۔ *(سورۃ الصفت آیت نمبر 129/132)* 
 تفسیر صراط الجنان          
{ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ  : الیاس پر سلام ہو۔} اِل یاسین بھی الیاس کی ایک لغت ہے۔ جیسے سینا اور سِیْنِیْن دونوں  ’’طورِ سینا ‘‘ ہی کے نام ہیں ،ایسے ہی الیاس اور اِلْ یاسین ایک ہی ذات کے نام ہیں ۔اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام پر سلام ہو اور دوسرا معنی یہ ہے کہ قیامت تک بندے ان کے  حق میں دعا کرتے اور ان کی تعریف بیان کرتے رہیں  گے ۔ *(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۷ / ۴۸۲، جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۰ ، ص ۳۷۸، ملتقطاً )*    
 *چار پیغمبروں کی ابھی تک ظاہری وفات نہیں ہوئی :-*  
یاد رہے کہ چار پیغمبر ابھی تک زندہ ہیں ۔دو آسمان میں ،(1) حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (2) حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ، اور دو زمین پر۔(1)  حضرت خضر  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  (2)  حضرت الیاس  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ   وَالسَّلَام۔ حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  سمندر پر اور حضرت الیاس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خشکی پر مُنْتَظِم ہیں ۔ *(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۱۳۲،    ۷ / ۴۸۱، ۴۸۳)*
  جب قیامت قریب آئے گی تو اس وقت وفات پائیں گے اور بعض بزرگوں کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-