بندوں سے مدد مانگنا شرک نہیں کوئی کہے زندوں سے مدد مانگنا شرک نہیں تو وہ بھی شرک ہو سکتا ہیں ایسے بھی مذہب ہوتے ہیں جس میں زندہ انسان کو خدا سمجھا جاتا ہیں جہاں کسی کے لئے خدا کا تصور نہیں وہاں شرک نہیں ہیں

 بندوں  سے مدد مانگنا شرک نہیں  کوئی کہے زندوں  سے مدد مانگنا شرک نہیں تو وہ بھی شرک ہو سکتا ہیں ایسے بھی مذہب ہوتے ہیں جس میں  زندہ انسان  کو خدا سمجھا جاتا ہیں جہاں کسی کے لئے خدا کا تصور نہیں وہاں شرک نہیں ہیں :- 

ترجمۂ کنز العرفان           

اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ *(سورۃ محمد آیت نمبر 7)* 

 یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے ، اسے نہ بندوں  کی مدد کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین کی ترویج و اشاعت اور اسے غالب کرنے میں بندوں  کی مدد کا محتاج ہے ،یہاں جوبندوں کو  اللہ  تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کا فرمایا گیا یہ در اصل ان کے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے کہ اس صورت میں  انہیں  اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی اور  اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں  ثابت قدمی نصیب ہو گی۔یہاں  اسی حوالے سے مزید دو باتیں ملاحظہ ہوں ،     

(1) اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد خالص  اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کی جائے اس میں  کوئی دنیاوی مقصد پیش نظرنہ ہو۔     

(2 ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مد د لینا شرک نہیں ، کیونکہ جب بندوں کی مدد سے غنی اور  بے نیاز رب تعالیٰ نے بندوں کو اپنے دین کی مدد کرنے کا فرما یا ہے تو عام بندے کا کسی سے مدد طلب کرنا کیوں   شرک ہوگا؟   

 *اللہ  تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کی  7  صورتیں : -*    

( 1 ) اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کیلئے دین کے دشمنوں  کے ساتھ زبان،قلم اور تلوار سے جہاد کرنا۔     

(2 ) دین کے دلائل کو واضح کرنا،ان پر ہونے والے شبہات کو زائل کرنا،دین کے احکام ، فرائض،سُنَن،حلال اور حرام کی شرح بیان کرنا۔     

( 3 )  نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔     

( 4 )  دین ِاسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشش اور جدو جہدکرنا۔     

( 5 ) وہ قابل اور مستند علماء جنہوں نے اپنی زندگیاں  دین کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کی ہوئی ہیں ، ان کے نیک مقاصد میں  ان کا ساتھ دینا۔     

( 6 )  نیک اور جائز کاموں  میں  اپنا مال خرچ کرنا۔     

(7 ) علماء اور مبلغین کی مالی خیر خواہی کر کے انہیں  دین کی خدمت کے لئے فارغ البال بنانا۔     

 *نوٹ:*  ان سات صورتوں  کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں  ہیں  جو  اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے میں  داخل ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-