حضور ﷺ آسمان میں فرشتوں کی عبادت کو بھی دیکھتے ہیں آسمان کے چَرچَرانے کی آواز بھی سننتے

حضور ﷺ آسمان میں فرشتوں کی  عبادت کو بھی دیکھتے ہیں آسمان کے چَرچَرانے کی آواز بھی سننتے :-
 ترجمۂ کنز العرفان     
اور (فرشتے کہتے ہیں ) ہم میں ہر ایک کیلئے ایک جگہ مقررہے۔ *(سورۃ الصفت آیت نمبر 164)* 
 تفسیر صراط الجنان      
{  وَ مَا مِنَّا  : ہم میں  ہر ایک کیلئے۔}  اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے کفار! جن فرشتوں  کو تم  اللہ  تعالیٰ کی بیٹیاں    کہتے ہو، اللہ تعالیٰ اور فرشتوں  کے درمیان نسب ثابت کر کے ان کی عبادت کرتے ہو،ان فرشتوں  کا اقرار تو یہ ہے کہ ہم رب تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ہم سب کے مقامات علیحدہ ہیں جہاں  رہ کر اس کی بتائی ہوئی عبادت کرتے ہیں ، اور جب وہ اپنی عَبْدِیَّت اور اللہ تعالیٰ کی معبودِیَّت کا اقرار کررہے ہیں تو وہ  اللہ  تعالیٰ کی اولاد کس طرح ہو سکتے ہیں    ۔  
 دوسری تفسیر  یہ ہے کہ حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام   نے حضور سید المرسَلین     صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ   میں عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، ہم فرشتوں کے   گروہوں میں  سے ہر ایک کیلئے ایک جگہ مقرر ہے جس میں  وہ اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس     رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا کہ آسمانوں میں بالِشْت بھر بھی جگہ ایسی نہیں  ہے جس میں کوئی فرشتہ نماز نہ پڑھتا ہو یا تسبیح نہ کرتا ہو۔ *(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ:۱۶۴، ۷ / ۴۹۴ - ۴۹۵، خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۶۴، ۴/ ۲۸ ، ملتقطاً)*  
 حضرت ابو ذر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، میں  وہ باتیں سنتا ہوں  جو تم نہیں  سنتے۔آسمان چَرچَرایا اور اس کا چرچرانا حق ہے،اس میں  چار انگلی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں فرشتے اپنی پیشانی رکھے اللہ   تعالیٰ کے لئے سجدے میں نہ ہوں ۔  *(ترمذی، کتاب ا لزہد، باب فی قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  : لو تعلمون ما اعلم۔۔۔ الخ، ۴/ ۱۴۰، الحدیث: ۲۳۱۹)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-