جن کا یہ عقیدہ ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کون کب پیدا ہوگا کب مریگا ان کو چائے فرشتوں کے علم غیب کا بھی انکار کر دے فرستے بھی اللہ‎ کے سوا ہیں فرستے نبی کے سوال پر علم غیب کو چھپاتے نہیں ہیں اظہار کرتے ہیں :-

 جن کا یہ عقیدہ ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کون کب پیدا ہوگا کب مریگا ان کو چائے فرشتوں کے علم غیب کا بھی  انکار کر دے فرستے بھی اللہ‎ کے سوا ہیں فرستے نبی کے سوال پر علم غیب کو چھپاتے نہیں ہیں اظہار کرتے ہیں :- 

 ترجمۂ کنز العرفان         

ابراہیم نے فرمایا: تو اے بھیجے ہوئے فرشتو! پھر تمہارا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے کہا: بیشک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ تاکہ ان پر گارے کے پتھر برسائیں ۔ جن پر تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں ۔ *(سورۃ الذریت آیت نمبر 31/34)* 

 تفسیر صراط الجنان          

{ قَالَ  : ابراہیم نے فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  جان گئے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں تو آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ   وَالسَّلَام  نے ان سے فرمایا: اے فرشتو! کیا تم صرف بیٹے کی بشارت دینے آئے ہو یا اس کے علاوہ تمہارا اور بھی کوئی کام ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ (ان کی بستیوں          کو الٹ پلٹ کرنے کے بعد)  ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں جن پر آپ کے رب  عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حد سے بڑھنے والوں  کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ان پتھروں  پر ایسے نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتھروں میں  سے نہیں  ہیں  اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک کیاجانے والا تھا۔ *(خازن، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ: ۳۱ - ۳۴ ، ۴ / ۱۸۳، مدارک، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ: ۳۱- ۳۴ ، ص ۱۱۷۰ ، ملتقطاً)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-