اچھی اور بری بدعت دونوں کی حدیث ہیں بری بدعت بری بدعت کی حدیث میں شمار ہوگی اچھی بدعت اچھی بدعت کی حدیث میں شمار ہوگی اچھے کام کو بھی بری بدعت میں شمار کرنا یہ لوگوں کی جہالت ہیں
*اچھی اور بری بدعت دونوں کی حدیث ہیں بری بدعت بری بدعت کی حدیث میں شمار ہوگی اچھی بدعت اچھی بدعت کی حدیث میں شمار ہوگی اچھے کام کو بھی بری بدعت میں شمار کرنا یہ لوگوں کی جہالت ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک ہم مُردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو (عمل) انہوں نے آگے بھیجا اور ان کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات کو اور ایک ظاہر کردینے والی کتاب میں ہر چیز ہم نے شمار کررکھی ہے۔
{وَ اٰثَارَهُمْ: اور ان کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات۔} آیت کی تفسیر میں بیان ہوا کہ لوگ جو طریقے اپنے پیچھے چھوڑ گئے وہ لکھے جارہے ہیں ، یہ طریقے اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی، دونوں کا حکم جدا جدا ہے لہٰذا لوگ جو نیک طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعت ِحَسَنہ یعنی اچھی بدعت کہتے ہیں اور اس طریقے کو نکالنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں دونوں کو ثواب ملتا ہے اور جو برے طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعت ِسَیِّئہ یعنی بری بدعت کہتے ہیں ، اس طریقے کو نکالنے والے اور عمل کرنے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے اسلام میں نیک طریقہ نکالا اس کو طریقہ نکالنے کا بھی ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس نے اسلام میں برا طریقہ نکالا تو اس پر وہ طریقہ نکالنے کا بھی گناہ ہو گا اور اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہو گا اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ *( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحثّ علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))*
اس سے معلوم ہوا کہ سینکڑوں اچھے کام جیسے شریعت کے مطابق فاتحہ، گیارہویں ، سوئم،چالیسواں ، عرس ، ختم، اور میلاد کی محفلیں وغیرہ جنہیں کم علم لوگ بدعت کہہ کر منع کرتے ہیں اور لوگوں کو ان نیکیوں سے روکتے ہیں ،یہ سب نیک کام درست اور اجر و ثواب کا باعث ہیں اور ان کو بدعتِ سیّئہ یعنی بری بدعت بتانا غلط ہے ۔ یہ طاعات اور نیک اعمال جو ذکر و تلاوت اور صدقہ و خیرات پر مشتمل ہیں بری بدعت نہیں ، کیونکہ بری بدعت وہ برے طریقے ہیں جن سے دین کو نقصان پہنچتا ہے اور جو سنت کے مخالف ہیں ، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ جو قوم بدعت نکالتی ہے اس سے بدعت کی مقدار سنت اٹھ جاتی ہے۔ *(مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث غضیف بن الحارث رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۶ / ۴۰، الحدیث: ۱۶۹۶۷)*
تو بری بدعت وہی ہے جس سے سنت اٹھتی ہو جیسا کہ بعض لوگوں نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے عداوت رکھنے کی بری بدعت نکالی جس کی وجہ سے صحابہ ٔکرام اور اہلِ بیت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ محبت اور نیاز مندی کا طریقہ اٹھ گیا حالانکہ شریعت میں اس کا تاکیدی حکم ہے ۔کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقبول بندوں جیسے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی شان میں بے ادبی اورگستاخی کرنے اور تمام مسلمانوں کو مشرک قرار دینے کی بد ترین بدعت نکالی ، اس سے بزرگانِ دین کی حرمت ، عزت ، ادب و تکریم اور مسلمانوں کے ساتھ اَخُوَّت اور محبت کی سنتیں اٹھ جاتی ہیں حالانکہ ان کی بہت شدید تاکید یں ہیں اور یہ دین میں بہت ضروری چیز یں ہیں ۔ *( خزائن العرفان، یس، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۸۱۵، ملخصاً)*
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک ہم مُردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو (عمل) انہوں نے آگے بھیجا اور ان کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات کو اور ایک ظاہر کردینے والی کتاب میں ہر چیز ہم نے شمار کررکھی ہے۔
{وَ اٰثَارَهُمْ: اور ان کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات۔} آیت کی تفسیر میں بیان ہوا کہ لوگ جو طریقے اپنے پیچھے چھوڑ گئے وہ لکھے جارہے ہیں ، یہ طریقے اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی، دونوں کا حکم جدا جدا ہے لہٰذا لوگ جو نیک طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعت ِحَسَنہ یعنی اچھی بدعت کہتے ہیں اور اس طریقے کو نکالنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں دونوں کو ثواب ملتا ہے اور جو برے طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعت ِسَیِّئہ یعنی بری بدعت کہتے ہیں ، اس طریقے کو نکالنے والے اور عمل کرنے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے اسلام میں نیک طریقہ نکالا اس کو طریقہ نکالنے کا بھی ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس نے اسلام میں برا طریقہ نکالا تو اس پر وہ طریقہ نکالنے کا بھی گناہ ہو گا اور اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہو گا اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ *( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحثّ علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))*
اس سے معلوم ہوا کہ سینکڑوں اچھے کام جیسے شریعت کے مطابق فاتحہ، گیارہویں ، سوئم،چالیسواں ، عرس ، ختم، اور میلاد کی محفلیں وغیرہ جنہیں کم علم لوگ بدعت کہہ کر منع کرتے ہیں اور لوگوں کو ان نیکیوں سے روکتے ہیں ،یہ سب نیک کام درست اور اجر و ثواب کا باعث ہیں اور ان کو بدعتِ سیّئہ یعنی بری بدعت بتانا غلط ہے ۔ یہ طاعات اور نیک اعمال جو ذکر و تلاوت اور صدقہ و خیرات پر مشتمل ہیں بری بدعت نہیں ، کیونکہ بری بدعت وہ برے طریقے ہیں جن سے دین کو نقصان پہنچتا ہے اور جو سنت کے مخالف ہیں ، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ جو قوم بدعت نکالتی ہے اس سے بدعت کی مقدار سنت اٹھ جاتی ہے۔ *(مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث غضیف بن الحارث رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۶ / ۴۰، الحدیث: ۱۶۹۶۷)*
تو بری بدعت وہی ہے جس سے سنت اٹھتی ہو جیسا کہ بعض لوگوں نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے عداوت رکھنے کی بری بدعت نکالی جس کی وجہ سے صحابہ ٔکرام اور اہلِ بیت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ محبت اور نیاز مندی کا طریقہ اٹھ گیا حالانکہ شریعت میں اس کا تاکیدی حکم ہے ۔کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقبول بندوں جیسے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی شان میں بے ادبی اورگستاخی کرنے اور تمام مسلمانوں کو مشرک قرار دینے کی بد ترین بدعت نکالی ، اس سے بزرگانِ دین کی حرمت ، عزت ، ادب و تکریم اور مسلمانوں کے ساتھ اَخُوَّت اور محبت کی سنتیں اٹھ جاتی ہیں حالانکہ ان کی بہت شدید تاکید یں ہیں اور یہ دین میں بہت ضروری چیز یں ہیں ۔ *( خزائن العرفان، یس، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۸۱۵، ملخصاً)*
Comments
Post a Comment