حضور ﷺ کا علم غیب اپنے سے پہلے کی قوم کا حال بھی جانتے ہیں

حضور ﷺ کا علم غیب اپنے سے پہلے کی قوم کا حال بھی جانتے ہیں :-*
 حضرت  عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے سوال کیا گیا کہ سبا کسی مرد کا نام ہے یا عورت کا یا کسی سرزمین کا نام ہے؟نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’سبا ایک مرد تھا اور اس کے دس بیٹے تھے،ان میں  سے چھ یمن میں  آباد ہو گئے تھے اور چار شام میں چلے گئے تھے۔   *(مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن العباس بن عبد المطلب عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  ، ۱ / ۲۷۷ ، الحدیث:  ۲۹۰۰ )*
 *نیک اعمال کی توفیق پانے کے لئے ایک وظیفہ:-* 
 تفسیر روح البیان میں  ہے کہ جو شخص جمعہ کی نما زسے پہلے   100 مرتبہ’’   *یَا بَصِیْرُ*   ‘‘پڑھ لے تو  اللہ  تعالیٰ اس کی بصیرت میں  اضافہ فرما دے گا اور اسے اچھی باتوں  اور نیک کاموں  کی توفیق نصیب فرمائے گا۔ *(روح البیان، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۱ ، ۷ / ۲۶۸ )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-