اللہ تعالیٰ کی عطا سے غیبی خزانے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قبضہ میں ہیں

 *اللہ تعالیٰ کی عطا سے غیبی خزانے حضورِ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قبضہ میں  ہیں :-
   چنانچہ  اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  ’’  اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ‘‘   ہم نے آپ کو کوثر بخش دیا۔ *(  کوثر :۱ )*
اور حضورِ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خود فرماتے ہیں : ’’ اُعْطِیْتُ     مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ ‘‘  مجھے زمینی خزانوں کی کنجیاں عطا فرمادی گئیں ۔ *( بخاری، کتاب الجناءز، باب الصلاۃ علی الشہید ، ۱ / ۴۵۲، الحدیث: ۱۳۴۴ )*
 اور فرماتے ہیں  کہ’’اگر میں  چاہوں  تو میر ے ساتھ سونے کے پہاڑ چلا کریں ۔‘‘ *(  شرح السنہ، کتاب الفضاءل، باب تواضعہ  صلی   اللہ علیہ وسلم ، ۷ / ۴۰، الحدیث: ۳۵۷۷ )*
  اورفرماتے ہیں  کہ میں  نے  (دورانِ نماز قبلہ کی دیوار میں )  جنّت دیکھی اور اس سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر لے لیتا تو جب تک دنیا باقی رہتی تم اس سے کھاتے ۔ *(  بخاری، کتاب الاذان، باب رفع البصر الی الامام فی الصلاۃ ، ۱ / ۲۶۵، الحدیث: ۷۴۸ )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-