اللہ‎ تعالیٰ نے اس آیت میں خود چنے ہوے بندوں پر سلام بھیجا ہیں اور انبیاء کرام اور صحابہ کو سلام بھیجنے کا کا حکم دیا مسلمان نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر اس آیت کو پڑھکر سلام بھجتے ہیں :-

*اللہ‎ تعالیٰ نے اس آیت میں خود چنے ہوے بندوں پر سلام بھیجا ہیں اور  انبیاء کرام اور صحابہ  کو سلام بھیجنے کا کا حکم دیا مسلمان نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر اس آیت کو پڑھکر سلام بھجتے ہیں :-
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ- ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ(۵۹)
 ترجمۂ کنز العرفان           
تم کہو: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اللہ نے چن لیا ہے۔ کیا اللہ بہتریا ان کے خود ساختہ شریک؟
 *(سورۃ النمل آیت نمبر 59)*
 تفسیر صراط الجنان             
{قُلْ : تم کہو۔}  یہاں  حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے خطاب فرمایا گیا کہ اے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ پچھلی امتوں  کی ہلاکت پر اللہ تعالٰی کی حمد بجالائیں  اور       اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے بندوں  پر سلام بھیجیں ۔ چنے ہوئے بندوں  سے مراد اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ حضرت  عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ چنے ہوئے بندوں  سے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ مراد ہیں ۔ *(مدارک، النمل، تحت الآیۃ:  ۵۹ ، ص ۸۵۱ - ۸۵۲ ، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۵۹ ، ۳ / ۴۱۶ ، ملتقطاً )*     
{ ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَ : کیا اللہ بہتریا ان کے خود ساختہ شریک ؟}  اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا اللہ تعالٰی کی عبادت کرنے والے کے لئے اللہ تعالٰی بہتر ہے یا بتوں  کے عبادت کرنے والے کے لئے بت بہتر ہیں ۔ بے شک جو  اللہ تعالٰی پر ایمان لایا اور اس نے خاص اللہ تعالٰی کی عبادت کی تو اس کے لئے  اللہ تعالٰی بہتر ہے کیونکہ وہ انہیں  عذاب اور ہلاکت سے بچا تا ہے جبکہ عذاب نازل ہونے کے وقت بت اپنے عبادت گزاروں  کو کوئی فائدہ نہیں  پہنچا سکتے۔             *(خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۵۹ ، ۳/ ۴۱۶)*
 اس لئے بتوں  کو پوجنا اور معبود ماننا انتہائی بے جا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-