غیب داہ نبی ﷺ کی غیبی خبر جہنمیوں کی فریاد

غیب داہ نبی  ﷺ  کی غیبی خبر جہنمیوں کی فریاد: -*
( 1 ) حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی   عَنْہُ سے روایت ہے،  رسولُ   اللہ  صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ حضرت مالک   عَلَیْہِ   السَّلَام   کو پکار کر کہیں   گے اے مالک! تیرا رب  (ہمیں   موت دے کر)  ہمارا کام پورا کردے۔حضرت مالک   عَلَیْہِ  السَّلَام ان سے کہیں گے کہ تم جہنم ہی میں   پڑے رہو گے۔ پھر وہ  اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں   فریاد کریں   گے پکاریں گے اور کہیں   گے ’’اے ہمارے رب!  عَزَّوَجَلَّ ، ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں   دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں   تو بیشک ہم ظالم ہوں   گے۔ اُنہیں   جواب دیا جائے گا کہ دھتکارے ہوئے جہنم میں   پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ اب اُن کی امیدیں   منقطع ہوجائیں   گی اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں   مشغول ہوں   گے۔ *(ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ طعام اہل النار ،  ۴ / ۲۶۳ ، الحدیث:  ۲۵۹۵ )*
( 2) حضرت  عبد اللہ  بن عمرو   رَضِیَ   اللہ   تَعَالٰی   عَنْہُمَا   سے مروی ہے کہ دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ حضرت مالک   عَلَیْہِ   السَّلَام   کو پکاریں گے تو وہ چالیس برس تک انہیں   جواب نہ دیں  گے، اس کے بعد وہ کہیں   گے کہ تم جہنم ہی میں   پڑے رہو گے پھر وہ کہیں   گے’’اے ہمارے رب! ہمیں   دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں   تو بیشک ہم ظالم ہوں   گے۔ اور انہیں   دنیا سے دگنی عمر تک جواب نہ دیا جائے گا۔ *(  مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب ذکر النار، ما ذکر فیما اعدّ لاہل النار وشدّتہ ،  ۸ / ۹۲ ،  الحدیث :  ۶ )*
اور دنیا کی عمر کتنی ہے اس بارے میں   کئی قول ہیں ’’ بعض نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے، بعض نے کہا بارہ ہزار برس اور  بعض نے کہا کہ تین لاکھ ساٹھ برس ہے۔   وَ اللہ   تَعَالٰی  اَعْلَم *( التذکرہ للقرطبی ، باب منہ و ما جاء فی خروج الموحدین من النار۔۔۔ الخ،  ص ۴۱۸ ،  صاوی، المؤمنون، تحت الآیۃ :  ۱۰۸ ،  ۴ / ۱۳۷۸ )* اور آخری بیان کردہ عمر بھی قطعی  نہیں   ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-