اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کون کب کہا مریگا یہ عقیدہ رکھنے والے اگر قرآن کی تفسیر کا علم رکھتے آیت کی حکمت کا علم رکھتے تو اپنے نبی کے علم کو فرشتوں سے کمتر ثابت کرنے کی کوشیش نہیں کرتے انسانی تخلیق کے مَراحل اور فرشتوں کا علم غیب بچے کا رزق ، اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا معلوم ہوتا ہیں

اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کون کب کہا مریگا یہ عقیدہ رکھنے والے اگر قرآن کی تفسیر کا علم رکھتے آیت کی حکمت کا علم رکھتے تو اپنے نبی کے علم کو فرشتوں سے کمتر  ثابت کرنے کی کوشیش نہیں کرتے انسانی تخلیق کے مَراحل اور فرشتوں کا علم غیب بچے کا رزق ، اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا معلوم ہوتا ہیں :-*
 اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف کس طرح منتقل کرتا ہے ، اس کا کچھ بیان تو اس آیت میں  ہوا اور اس کی مزید تفصیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں  ہے، چنانچہ سرکارِ دو عالَم   صَلَّی  اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’ تم لوگوں کی پیدائش کا مادہ ماں کے پیٹ میں  چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں  رہتا ہے، پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون ہو جاتا ہے، پھر اتنی ہی مدت گوشت کی بوٹی کی طرح رہتا ہے، پھر  اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق   ، اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے، پھر اس میں روح پھونک دیتاہے۔  *(بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب خلق آدم   صلوات اللہ علیہ وذرّیتہ  ،۲ / ۴۱۳،الحدیث: ۳۳۳۲،   مسلم، کتاب القدر، باب کیفیّۃ الخلق الادمیّ فی بطن امّہ۔الخ،  ص۱۴۲۱، الحدیث: ۱(۲۶۴۳))*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-