اہل حدیث فرقہ اجتمای دعا کوبدعت کہتا ہیں کیا فرشتوں کو بھی بدعتی کہوگے

*اہل حدیث فرقہ اجتمای دعا کوبدعت کہتا ہیں کیا فرشتوں کو بھی بدعتی کہوگے :-
  ترجمۂ کنز العرفان       
وہی (اللہ ) ہے جوتم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 43)*
 تفسیر صراط الجنان         
{ هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ  : وہی ( اللہ ) ہے جوتم پر رحمت بھیجتا ہے۔}  شانِ نزول: حضرت انس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ جب آیت ’’  اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ   نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ     نے عرض کی:  یا  رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جب آپ کو  اللہ     تعالیٰ کوئی فضل اور شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں  کو بھی آپ کے طفیل میں  نوازتا ہے، اس پر  اللہ  تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔   
حضرت  عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  کہ جب  اللہ تعالیٰ نے آیت ’’  اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ    ‘‘  نازل فرمائی تو مہاجر اور انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ  نے عرض کی:     یا  رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، یہ شرف تو خاص آپ کے لئے ہے لیکن اس میں  ہمارے لئے کوئی فضیلت نہیں ۔اس پر  اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا’’ وہی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جوتم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں  اپنی رحمت اور فرشتوں  کی دعا کے صدقے کفر ، مَعصِیَت اور  اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ کرنے کی اندھیریوں  سے حق ، ہدایت اور  اللہ  تعالیٰ کی معرفت کی روشنی کی طرف ہدایت فرمائے اور   اللہ  تعالیٰ مسلمانوں  پر مہربان ہے۔  *( خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۳ ، ۳ / ۵۰۴ ، قرطبی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۳، ۷ /  ۱۴۶ ، الجزء الرابع عشر، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴۳ ، ص ۹۴۴ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-