موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بچپن میں ہی اللہ‎ تعالیٰ کے احکام مل رہے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کا کلام پاک قدیم ہیں تو انبیاء کرام کی نبوت کا فیصلہ بھی قدیم ہوتا

موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کو بچپن میں ہی اللہ‎ تعالیٰ کے احکام مل رہے ہیں اللہ‎ تعالیٰ کا کلام پاک قدیم ہیں تو انبیاء کرام کی نبوت کا فیصلہ بھی قدیم ہوتا :-*
  ترجمۂ کنز العرفان           
اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں تو موسیٰ کی بہن نے کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والے بتادوں جو تمہارے اس بچہ کی ذمہ داری لے لیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟ *(سورۃ القصص آیت نمبر 12)*
 تفسیر صراط الجنان             
{ وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ : اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے پہلے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کو منع کر دیا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے علاوہ کسی اور کا دودھ نوش نہ فرمائیں ۔ چنانچہ جس قدر دائیاں  حاضر کی گئیں  ان میں  سے کسی کی چھاتی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے منہ میں  نہ لی، اس سے ان لوگوں  کو بہت فکر ہوئی کہ کہیں  سے کوئی ایسی دائی مُیَسَّر آئے جس کا دودھ آپ پی لیں ۔ دائیوں  کے ساتھ آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کی ہمشیرہ بھی یہ حال دیکھنے چلی گئی تھیں  اور صورتِ حال دیکھ کر انہوں  نے کہا :کیا میں  تمہیں  ایسے گھر والے بتادوں جوتمہارے اس بچے کی ذمہ داری لے لیں  اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں ؟ فرعونیوں  نے یہ بات منظور کر لی ، چنانچہ آپ اپنی والدہ کو بلالائیں ۔ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ السَّلَام       فرعون کی گود میں  تھے اور دودھ کے لئے رورہے تھے اورفرعون آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شفقت کے ساتھ بہلارہا تھا۔ جب آپ کی والدہ تشریف لائیں  اور آپ نے اُن کی خوشبو پائی تو آپ کو قرار آگیا اور آپ نے ان کا دودھ نوش فرما لیا۔فرعون نے کہا :تم اس بچے کی کیا لگتی ہو کہ اُس نے تیرے سوا کسی کے دودھ کو منہ بھی نہ لگایا؟ انہوں  نے کہا :میں  ایک عورت ہوں ، پاک صاف رہتی ہوں ،میرا دودھ خوشگوار ہے، جسم خوشبودار ہے، اس لئے جن بچوں کے مزاج میں  نَفاست ہوتی ہے وہ اور عورتوں  کا دودھ نہیں  لیتے ہیں  جبکہ میرا دودھ پی لیتے ہیں ۔ فرعون نے بچہ انہیں  دیا اور دودھ پلانے پر انہیں  مقرر کرکے فرزند کو اپنے گھرلے جانے کی اجازت دی ،چنانچہ آپ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو اپنے مکان پر لے آئیں ۔اور  اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اس وقت انہیں  اطمینانِ کامل ہوگیا کہ یہ فرزندِ اَرْجْمند ضرور نبی ہوں  گے، اللہ تعالیٰ اس وعدہ کا ذکر فرماتا ہے۔ *(خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۱۲،۳/۴۲۶، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۱۲، ص ۸۶۳  ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-