فرعون کی طرح اہلے حدیث بھی اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم اور مکان مانتے ہیں لوگوں کی جہالت قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے والے کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں

فرعون کی طرح اہلے حدیث بھی اللہ‎ تعالیٰ کے لئے جسم اور مکان مانتے ہیں لوگوں کی جہالت قرآن حدیث کے خلاف عقیدہ رکھنے والے کو بھی مسلمان سمجھتے ہیں :-
 ترجمۂ کنز العرفان       
اور فرعون نے کہا: اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارے پر آگ جلا پھر میرے لئے ایک اونچا محل بناؤ، شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں اور بیشک میں تو اسے جھوٹوں میں سے ہی سمجھتا ہوں ۔ *(سورۃ القصص  آیت نمبر 38)*
 تفسیر صراط الجنان         
{ وَ قَالَ فِرْعَوْنُ:  اور فرعون نے کہا۔}  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے فرعون کو جو اللہ تعالیٰ کی وَحْدانیَّت پر ایمان لانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی تھی، اس کا انکار کرتے ہوئے فرعون نے اپنے دربار میں  موجود لوگوں  سے کہا: اے درباریو!میں  تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں  جانتا جس کی تم عبادت کرو۔پھر اس نے اپنے وزیر ہامان  سے کہا کہ اے ہامان! میرے لیے گارے پر آگ جلا کر اینٹ تیار کرو، پھر میرے لئے ایک انتہائی اونچا محل بناؤ، شاید میں  موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں  اور بیشک میں  توموسیٰ کو اپنے اس دعوے میں جھوٹوں  میں  سے ہی سمجھتا ہوں  کہ اس کا ایک معبود ہے جس نے اسے اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے ۔   
 فرعون نے یہ گمان کیا تھا کہ (مَعَاذَ اللہ )  اللہ تعالیٰ کے لئے بھی مکان ہے اور وہ جسم ہے کہ اس تک پہنچنا اس کے لئے ممکن ہو گا ،اس لئے اس نے ہامان کو عمارت بنانے کا حکم دیا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا،چنانچہ ہامان نے فرعون کے حکم پر عمل کرنے کے لئے ہزارہا کاریگر اور مزدور جمع کئے، اینٹیں  بنوائیں اور تعمیراتی سامان جمع کر کے اتنی بلند عمارت بنوائی کہ دنیا میں  اس کے بر ابر کوئی عمارت بلند نہ تھی۔ کہتے ہیں  کہ دنیا میں  سب سے پہلے اینٹ بنانے والا ہامان ہے، یہ صَنعت اس سے پہلے نہ تھی۔ *(خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳ / ۴۳۳ ، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۳۸، ص ۸۷۱ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-