اَلَمْ تَرَ کی جتنی آیات ہیں سب میں حضور ﷺ کے مشاہدہ کا ذکر اس آیت میں حضور ﷺ کا زمین وہ آسمان میں جو کچھ ہیں سب کا مشاہدہ کرنے کا ثبوت ہیں جو یہ عقیدہ رکھے حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ان کو قرآن حدیث کا علم نہیں

اَلَمْ تَرَ کی جتنی آیات ہیں سب میں حضور ﷺ کے مشاہدہ کا ذکر  اس آیت میں حضور ﷺ کا زمین وہ آسمان میں جو کچھ ہیں سب کا مشاہدہ کرنے کا ثبوت ہیں   جو یہ عقیدہ رکھے حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ان کو قرآن حدیث کا علم نہیں :-*
   ترجمۂ کنز العرفان   
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور تمام پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی یہ سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ وہ (بھی) ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے اور جسے اللہ ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں ، بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 18)*
 تفسیر صراط الجنان     
{  اَلَمْ تَرَ  :  کیا تم نے نہیں  دیکھا ۔} ارشاد فرمایا ’’اے حبیب ِاکرم!  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج ، چاند ،ستارے ،تمام پہاڑ ، درخت اور چوپائے یہ سب جیسا  اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ویسا اسے سجدہ کرتے ہیں    اور بہت سے آدمی یعنی مسلمان طاعت و عبادت کا سجدہ بھی کرتے ہیں اور بہت   سے وہ لوگ ہیں جن پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب مقرر ہوچکا ہے لیکن ان کے بھی سائے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز   ہوتے ہیں ۔ اور جسے  اللہ تعالیٰ اس کی شقاوت کے سبب ذلیل کرے تواسے کوئی عزت دینے والا نہیں ، بیشک  اللہ تعالیٰ   جو چاہتا ہے کرتا ہے۔  *(مدارک، الحج، تحت الآیۃ  : ۱۸، ص۷۳۴، خازن، الحج، تحت الآیۃ  : ۱۸، ۳ / ۳۰۲-۳۰۳،   ملتقطاً )* 
 *نوٹ:*   یہ آیت ِ سجدہ ہے، اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-