نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر سلام پڑھنے والے بد مذہب والے حضور ﷺ پر کھڈے ہو کر سلام پر اعتراض کرنے والے عقل نہیں رکھتے

نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پر سلام پڑھنے والے بد مذہب والے حضور ﷺ پر کھڈے ہو کر سلام پر اعتراض کرنے والے عقل نہیں رکھتے :-*
  ترجمۂ کنز العرفان           
جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے: ’’سلام ‘‘ابراہیم نے فرمایا:ہم تم سے ڈر رہے ہیں ۔ *(سورۃ الحجر آیت نمبر 52* )
 تفسیر صراط الجنان             
{ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ  :  جب وہ اس کے پاس آئے ۔}  یعنی فرشتے جب حضرت ابراہیم       عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے پاس آئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو سلام کیا اور آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی تعظیم و توقیر کی۔حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ان سے فرمایا ’’ہم تم سے ڈر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا مہمانوں سے خوف کھانے  کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اجازت کے بغیر اور بے وقت آئے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہمانوں  نے ان کا پیش کردہ بھنا ہوا بچھڑا کھانے سے انکارکر دیا تھا اور اس دور میں  مہمان کا کھانے سے انکار کر دینا دشمنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ *(ابوسعود، الحجر، تحت الآیۃ:  ۵۲، ۳ / ۲۳۰ ، بیضاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۲ ، ۳ / ۳۷۴ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-