نوح علیہ السلام کا علم غیب اب کوئی ایمان نہیں لاے گا اس لئے سب کے عذاب کی دعا کی

نوح علیہ السلام کا علم غیب اب کوئی ایمان نہیں لاے گا اس لئے سب کے عذاب کی دعا کی :-
ترجمۂ کنز العرفان         
اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے مسلمان ہوجانے والوں کے علاوہ کوئی اور (اب) مسلمان نہیں ہوگاتو تم اس پر غم نہ کھاؤ جو یہ کررہے ہیں ۔(سورۃ هود  آیت نمبر 36)
 تفسیر صراط الجنان           
{ وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ  :  اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی۔}  اس آیت میں حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو یہ خبر دی گئی ہے کہ ان کی قوم کے جو لوگ کفر پر اَڑے ہوئے ہیں ان کا ایمان قبول کرنا محال ہے لہٰذا ان کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ  اللہ      تعالیٰ نے حضرت نوح   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی طرف وحی بھیجی کہ آپ کی قوم کے جن  لوگوں سے ایمان قبول کرنے کی توقع تھی وہ تو ایمان قبول کر چکے ، ان کے علاوہ جو لوگ اپنے کفر پر ہی قائم ہیں وہ اب کسی صورت ایمان قبول نہیں کریں گے لہٰذا اس طویل مدت کے دوران کفار کی طرف سے آپ کو جس تکذیب، اِستہزاء اور اَذِیَّت کا سامنا ہوا اس پر غم نہ کرو ، ان کفارکے کرتوت ختم ہو گئے اور اب ان سے انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔     (ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۹ )           ایمان لانے والے حضرات کی تعداد مفسرین کے بیان کے مطابق تقریباً اسی  (80 )      تھی۔     

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-