حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کسی صفت کو کسی گھٹیا چیز کے ساتھ تشبیہ دینا کفر ہے:-*

حضور پُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی کسی صفت کو کسی گھٹیا چیز کے ساتھ تشبیہ دینا کفر ہے:-*
 ترجمۂ کنز العرفان       
 *دیکھو! انہوں نے تمہارے لئے کیسی مثالیں بیان کی ہیں تو یہ گمراہ ہوئے پس یہ راستہ پانے کی طاقت نہیں رکھتے۔*
 تفسیر صراط الجنان         
{ اُنْظُرْ  : دیکھو!}  ارشاد فرمایا کہ یہ کفار حضور اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کیلئے کیسی باتیں  کہتے ہیں  کہ آپ     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ناقص صفات کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں   جیسے جادوگر، کاہن وغیرہ کے ساتھ۔ *( بیضاوی، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ : ۴۸،۳ / ۴۵۰، ملخصاً )*   
 اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یا آپ کی کسی صفت کو کسی گھٹیا چیز کے ساتھ تشبیہ دینا کفر ہے، جیسے سرکارِ دوعالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے علمِ مبارک کو  مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کوئی جانوروں کے علم سے  تشبیہ دے تو یقینا ایسا شخص تَوہین کا مُرتکب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-