جہنمی کافر جنتی مومن کو دور سے جنتی نعمت کے لئے پکار ینگے اس وقت انہیں سمجھ میں آئےگا دور سے مدد کے لئے پکار نا شرک نہیں ہوتا جنتی مومن کو جہنمی کافر سے نہ محبت ہو گی نہ اسے اس پر رحم آئے گا: -*

جہنمی کافر جنتی مومن  کو دور سے جنتی نعمت کے لئے پکار ینگے اس وقت انہیں سمجھ میں آئےگا دور سے مدد کے لئے پکار نا شرک نہیں ہوتا جنتی مومن کو جہنمی کافر سے نہ محبت ہو گی نہ اسے اس پر رحم آئے گا: -*
  ترجمۂ کنز العرفان     
اورجہنمی جنتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں کچھ پانی دیدو یا اس رزق سے کچھ دیدو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ جنتی کہیں گے: بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں ۔ *(سورۃ اعراف آیت نمبر 50)*
 تفسیر صراط الجنان       
{ وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ   : اور جہنمی پکاریں گے۔} حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ جب اعراف والے جنت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی کچھ لالچ ہوگی اور وہ عرض کریں گے :یارب! جنت میں ہمارے   رشتہ دار ہیں ، ہمیں اجازت عطا فرما کہ ہم اُنہیں دیکھ سکیں اور ان سے بات کرسکیں۔ چنانچہ انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے  رشتہ داروں کو جنت کی نعمتوں میں دیکھیں گے اور پہچانیں گے، لیکن اہلِ جنت ان دوزخی رشتہ داروں کو نہ پہچانیں گے کیونکہ  دوزخیوں کے منہ کالے ہوں گے، صورتیں بگڑ گئی ہوں گی، توو ہ جنتیوں کو نام لے لے کر پکاریں گے، کوئی اپنے باپ کو پکارے  گا، کوئی بھائی کو اورکہے گا ،ہائے میں جل گیا مجھ پر پانی ڈالو اور تمہیں اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے جو رزق دیا  ہے ان نعمتوں میں سے کھانے کو دو۔ ان کی پکار سن کر جنتی کہیں گے: بیشک  اللہ  عَزَّوَجَلَّ   نے یہ دونوں چیزیں کافروں  پر حرام کردی ہیں۔ *(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ : ۵۰ ، ۲ / ۹۸)* 
 اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنتی مومن کو دوزخی کافر سے بالکل محبت نہ ہو گی اور نہ ہی اس پر رحم آئے گا اگرچہ اس کا سگا باپ یا بیٹا یابہترین دوست ہو ،وہ اس کے مانگنے پر بھی اُدھر کچھ نہ پھینکے گا ۔ خیال رہے کہ یہاں حرام سے مراد شرعی حرام نہیں کیونکہ وہاں شرعی احکام جاری نہ ہوں گے بلکہ مراد کامل محرومی ہے۔ نیز جنتیوں کا جہنمیوں کی مدد نہ کرنا کافر جہنمیوں کے متعلق ہے ورنہ جہنم کے مستحق مسلمانوں میں سے بہت سے گناہگاروں کونیک رشتے داروں کی شفاعت نصیب ہوگی جیسے حافظ ِ قرآن کے بارے میں حدیث میں تصریح ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-