کافروں کے قیامت کے وقت کا سوال کا جواب نہ دینے کے لئے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نہ جاننے کا جواب دینے کا حکم دیا یہ حضور ﷺ کے وقت نہ جاننے کی دلیل نہیں ہو سکتی اتراض کرنے والے کیا یہ سمجھتے ہے جو علم حضور ﷺ کو ہو وہ ان کو بھی ہو :-

 کافروں کے قیامت کے وقت کا سوال کا جواب نہ دینے کے لئے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نہ جاننے کا جواب دینے کا حکم دیا یہ حضور ﷺ کے وقت نہ جاننے کی دلیل نہیں ہو سکتی اتراض کرنے والے کیا یہ سمجھتے ہے جو علم حضور ﷺ کو ہو وہ ان کو بھی ہو :-

ترجمۂ کنز العرفان         

مگر (میرا کام) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات (پہنچانا ہے) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تم فرماؤ: میں نہیں جانتا کہ جس کی تمہیں وعید سنائی جاتی ہے وہ نزدیک ہے یا میرا رب اس کے لئے ایک وقفہ کرے گا۔ *(سورۃ الجن آیت نمبر 23&25)* 

 تفسیر صراط الجنان      

{  قُلْ  : تم فرماؤ۔}   شانِ نزول:جب مشرکین نے اوپر والی آیت میں  دئیے گئے   وعدے کوسنا تو نضر بن حارث نے کہا کہ جس کا آپ ہمیں  وعدہ دے رہے ہیں یہ کب پورا ہوگا؟ اس کے جواب میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، آپ ان مشرکین   سے فرما دیں کہ (قیامت کے دن) اس عذاب کا واقع ہونا تو یقینی ہے البتہ میں  (اللّٰہ تعالیٰ کے بتائے بغیر)  یہ نہیں  جانتا کہ وہ نزدیک ہے یا میرا رب  عَزَّوَجَلَّ اسے نازل کرنے کے لئے   ایک وقفہ کرے گا۔  *( تفسیرکبیر، الجن، تحت الآیۃ:  ۲۵، ۱۰ /   ۶۷۸ )*  

 یاد رہے کہ  اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے تاجدارِ   رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو قیامت واقع ہونے کے  وقت کا علم ہے اور اس کی دلیل وہ تمام اَحادیث ہیں  جن میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے قیامت کی علامت اور نشانیاں بیان فرمائیں  حتّٰی کہ مہینہ ،دن اور وہ وقت بھی بتا دیا جس میں قیامت قائم ہو گی۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کا انکار کرنے والوں کا رد عالم و جاہل برابر ہیں ہر انسان قرآن سے مسائل نہیں سمجھ سکتا