جس آیت سے بد مذہب باطل فرقے والے غیر اللہ‎ کو پکار نے کا ردد کرتے ہیں کیا وہ انبیاء کرام اور اولیا اللہ‎ کو بوت سمجھتے ہی اور مسلمانوں کو کافر سمجھتے کیا قرآن کی کوئی آیت مسلمانوں کے ردد میں نازل ہوگی :-

جس آیت سے بد مذہب باطل فرقے والے غیر اللہ‎ کو پکار نے کا ردد کرتے ہیں کیا وہ انبیاء کرام اور اولیا اللہ‎ کو بوت سمجھتے ہی اور مسلمانوں کو کافر سمجھتے کیا قرآن کی کوئی آیت مسلمانوں کے ردد میں نازل ہوگی :-
   ترجمۂ کنز العرفان         
تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو۔ بلکہ تم اسی (اللہ ) کو پکارو گے تو اگراللہ چاہے تو وہ مصیبت ہٹا دے جس کی طرف تم اسے پکارو گے اور تم شریکوں کو بھول جاؤ گے۔(سورۃ انعام آیت نمبر  40/41)
 تفسیر صراط الجنان           
{ قُلْ : تم فرماؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب!     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، آپ ان مشرکوں سے فرمائیں کہ بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر      اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اس وقت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے اُن سے حاجت روائی چاہو گے ؟اگر تم  اپنے اس دعویٰ میں کہ  معاذ اللہ      بت معبود ہیں ، سچے ہو تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے بلکہ تمام ہولناکیوں اور تکلیفوں میں  تم  اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی کو پکارو گے تو اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو تم سے وہ مصیبت ہٹادے جس کو دور کرنے کی طرف تم اسے پکارو گے اور اگر وہ چاہے تو اس مصیبت کو دور نہ کرے اور اس وقت تم ان بتوں کو بھول جاؤ گے جنہیں تم خدا عَزَّوَجَلَّ کا شریک قرار دیتے تھے اور  جنہیں اپنے اعتقاد ِباطل میں تم معبود جانتے تھے اور اُن کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم      ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آسکتے۔  

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کا انکار کرنے والوں کا رد عالم و جاہل برابر ہیں ہر انسان قرآن سے مسائل نہیں سمجھ سکتا