*اِستغاثہ اور دُعا میں بنیادی فرق:-*

*اِستغاثہ اور دُعا میں بنیادی فرق:-*
دُکھ، درد اور تکلیف میں کسی سے مدد طلب کرنا اِستغاثہ کہلاتا ہے، جبکہ مطلقاً پُکارنا دُعا کہلاتا ہے، اِس میں دُکھ، درد، مصیبت اور تکلیف کی شرط نہیں۔ دُعا اور اِستغاثہ میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، کیونکہ دُعا مطلق پکارنے کو کہتے ہیں جبکہ اِستغاثہ کے لئے شرط ہے کہ مصیبت یا تکلیف میں پکاراجائے، اِس لئے ہر اِستغاثہ تو دُعا ہے لیکن ہر دُعا اِستغاثہ نہیں ہے۔ اِستغاثہ اور دُعا میں یہی بنیادی فرق ہے۔-
*کلامِ باری تعالیٰ میں لفظِ دُعا کا اِستعمال:-*
ذیل میں دُعا کا قرآنی تصوّر واضح کرنے کے لئے اُن میں سے چند اہم معانی کا ذِکر کیا جا رہا ہے -
*1. النِّدَآءُ :- 
وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ الَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً.
 *(البقره، 2 : 171)*
اور ان کافروں (کو ہدایت کی طرف بلانے) کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کسی ایسے (جانور) کو پکارے جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتا۔
 قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و تعظیم پر رَغبت دلاتے ہوئے فرمایا :-
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضاً. 
*(النور، 24 : 63)*
(اَے مسلمانو!) تم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو (نام لے کر) بلانے کی مثل قرار نہ دو-
*2-. الِاسْتِغَاثَةُ:-*
لفظِ ’’دُعا‘‘ قرآنِ مجید میں بعض مقامات پر سوال اور مدد طلب کرنے کے معنی میں بھی اِستعمال ہوا ہے، جیسا کہ اِرشادِ ربانی ہے :
وَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ  
*(البقرة، 2 : 68)*
اور اُنھوں نے کہا آپ ہمارے لئے اپنے ربّ سے دُعا کریں-
*3- الحَثُّ عَلَی الْقَصْدِ :-
فظِ ’’دُعا ‘‘ کا اِستعمال بعض اَوقات کسی چیز کے قصد پر رغبت دِلانے اور اکسانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اِس کی مثال یوں ہے- قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ الَيَ مِمَّا يَدْعُوْنَنِی الَيْهِ  *(يوسف، 12 : 33)*
یوسف علیہ السلام نے(سب کی باتیں سن کر) عرض کیا اے میرے ربّ مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جسکی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں-
*4- مرغوب اشیاء کی طرف رغبت دِلانے کے معنی میں*
 قرآنِ مجید میں لفظِ دُعا کا اِستعمال سورۂ یونس میں اِس طرح ہوا ہے :
وَ اﷲُ يَدْعُوْا الٰی دَارِالسَّلَامِ  *(يونس، 10 : 25)*
اور اللہ (لوگوں کو) سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے۔
*5- . الطَّلَبُ :-
قرآنِ مجید میں اِس کی مثال یوں ہے :وَ لَکُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ  
*(حم السجدة، 41 : 31)*
اور تمہارے لئے وہ سب کچھ بھی موجود ہے جو تم مانگو گے-
*6. الدُّعَآءُ :-
 قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ کے برگزیدہ اَفراد کی دُعا یوں مذکور ہے : وَ آخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 
*(يونس، 10 : 10)*
اور اُن کی دُعا (اِن کلمات پر) ختم ہوگی کہ ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے‘‘
*7. العِبَادَة:-*
اﷲ تعالیٰ کی عبادت کو بھی دُعا کہا جاتا ہے، جیسا کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے : الدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ. دُعا عین عبادت ہے۔
*(جامع الترمذی، اَبواب الدعوات، 2 : 173)*
*8- . الخِطَابُ :-
اِسے مطلقاً خطاب کے لئے بھی اِستعمال کیا جاتا ہے۔ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب دورانِ جنگ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قدم اُکھڑ گئے اور وہ منتشر ہوکر جنگ کرنے لگے اور صرف ایک مختصر جماعت تاجدارِ ختمِ نبوّت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِرد گِرد رَہ گئی، تو اُس موقع پر جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دُور ہٹ کر بکھر گئے تھے، مالکِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اپنی طرف بلایا۔ محبوبِ کبریا کے اِس رحمت بھرے خطاب کو قرآنِ مجید نے یوں بیان کیاہے :
اذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْونَ عَلٰی أَحَدٍ وَ الرَّسُوْلُ يَدْعُوْکُمْ فِيْ أُخْٰرکُمْ. 
*(آل عمران، 3 : 153)*
جب تم (اَفراتفری کی حالت میں) بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اُس جماعت میں (کھڑے) جو تمہارے پیچھے (ثابت قدم) رہی تھی تمہیں پکار رہے تھے--------------------------------------
دُعا (پکارنا) ہر جگہ عبادت کے معنی میں مستعمل نہیں، بصورت دیگر کسی کی عصمت شِرک کی آلائشوں سے محفوظ نظر نہیں آتی۔ کیونکہ خود نصِ قرآنی اِس پر شاہد ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی غیراللہ کو پکارا اور خود قرآن آپس میں ایک دوسرے کو مدد کے لئے پکارنے کی اِجازت دے رہا ہے۔ 
1. يَا قَوْمِ مَا لِيْ أَدْعُوْکُمْ الَی النَّجَاةِ وَ تَدْعُوْنَنِيْ الَی النَّارِ *(مومن، 40 : 41)*
اے میری قوم یہ کیا ہے کہ میں تم کو (راہ) نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف دعوت دیتے ہو
2. قَالَ رَبِّ انِّيْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّ نَهَاراًo فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآئِيْ الَّا فِرَاراً
*(نوح، 71 : 5، 6)*
عرض کیا اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن ( دینِ حق کی طرف) بلاتا رہاo لیکن میرے بلانے سے وہ (دین سے) اور زیادہ بھاگنے لگے
3. وَ اﷲُ يَدْعُوْ الٰی دَارِ السَّلٰمِ. *(يونس، 10 : 25)*
اور اللہ سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتاہے۔
4. أُدْعُوْهُمْ لِأَبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِ. *(الاحزاب 33 : 5)*
ان (متبنّی بیٹوں ) کو ان کے باپوں کی طرف (نسبت) کر کے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک درست بات ہے۔
5. فَلْيَدْعُ نَادِيُه سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ *(العلق، 96 : 17، 18)*
پس وہ اپنے ہم نشینوں کو (مدد کیلئے) بلالے ہم بھی عنقریب (اپنے) سپاہیوں کو بلالیں گے
6. فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ. *(الکهف، 18 : 52)*
سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے۔
7. يَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسِمْ بِامَامِهِمْ. *(بنی اسرائيل، 17 : 71)*
جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔
8. وَ انْ تَدْعُهُمْ الَی الْهُدٰی. *(الکهف، 18 : 57)*
اور اگر آپ انھیں ہدایت کی طرف بلائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے