دعا صرف عبادت نہیں دعوت بھی ہیں پکار بھی ہیں
*ولاتدع مع اللہ کا صحیح مفہوم:- قرآن حکیم میں لفظِ دُعا کے معانی :-*
*قرآن حکیم میں لفظ دُعا تین مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے جو درج ذیل ہیں :-*
*1۔ دُعا بمعنی دعوت* (Invitation)
*2۔ دعا بمعنی التجا* (Supplication)
*3۔ دُعا بمعنی عبادت* (Worship)
اب ہم بالترتیب مذکورہ بالا تینوں معانی کی مثالیں قرآنِ حکیم سے پیش کرتے ہیں-
*(1) دُعا بمعنی دعوت:-*
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
’’(اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجئے : یہی میری راہ ہے میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ *يوسف، 12 : 108*
*********************
. ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ.
’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے۔‘‘ *النحل، 16 : 125*
**********************
. وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ.
’’اور ہم نے انہیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنا دیا کہ (وہ لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘ *القصص، 28 : 41*
**********************
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ
’’اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو۔‘‘ *المؤمن، 40 : 41*
**********************
. وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
’’اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے : بیشک میں (اﷲ عزوجل اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔‘‘ *حم السجدة، 41 : 33*
**********************
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ.
’’مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے (وہ توحید کی بات) جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ *الشوریٰ، 42 : 13*
**********************
. هَاأَنتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
’’یاد رکھو تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔‘‘ *محمد، 47 : 38*
*********************
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ *الحديد، 57 : 8*
’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہو۔
*(2) دُعا بمعنی التجا :-*
دَعَا يَدْعُو کا دوسرا اطلاق پکارنا ہے یعنی بعض جگہ دعا یدعو دعا کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور اس کے عاجز بندے دعا کرتے ہیں اور وہ ان دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جب کوئی سائل اپنے ہاتھ اٹھا کر مانگتا ہے تو اس وقت التجا کی صورت میں دعا عبادت شمار ہوتی ہے۔
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ. *المؤمن، 40 : 60*
’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔‘‘
*جن آیاتِ مبارکہ میں دَعَا يَدْعُوْ بمعنی ’’دعا‘‘ استعمال ہوا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں :-*
1. هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ.
*اٰل عمران، 3 : 38*
’’اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی۔‘‘
**********************
. قُلْ أَرَأَيْتَكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
’’آپ (ان کافروں سے) فرمائیے : ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آ پہنچے تو کیا (اس وقت عذاب سے بچنے کے لئے) اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو۔ (ایسا ہرگز ممکن نہیں) بلکہ تم (اب بھی) اسی (اللہ) کو ہی پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہے تو ان (مصیبتوں) کو دور فرما دیتا ہے جن کے لئے تم (اسے) پکارتے ہو اور (اس وقت) تم ان (بتوں) کو بھول جاتے ہو جنہیں (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو۔‘‘
*الانعام، 6 : 40 - 41*
**********************
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا. . *.يونس، 10 : 89*
’’ارشاد ہوا : بے شک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہن۔‘‘
**********************
قُلِ ادْعُواْ اللّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى.
*بنی اسرائيل، 17 : 110*
’’فرما دیجئے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘
**********************
وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُواْ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ
*الزمر، 39 : 8*
’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا۔‘‘
**********************
لاَّ يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَؤُوسٌ قَنُوطٌ
’’انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے برائی پہنچ جاتی ہے تو بہت ہی مایوس، آس اور امید توڑ بیٹھنے والا ہو جاتا ہے۔‘‘
*حم السجده، 41 : 49*
7. وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ
’’اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنیوالا ہوجاتا ہے۔‘‘
*حم السجدة، 41 : 51*
**********************
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ *القمر، 54 : 10*
’’سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لے۔‘‘
**********************
تمام آیات میں دعا کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت کو حقیقی معین و مغیث جان کر اُسی سے ہی دُعا کی جائے بلاشک و ریب وہی مجیب الدعوات ہے-
-*-*--*-**-*-*-**-*-*-*-*-*
*(3) دُعا بمعنی عبادت :-*
جہاں عبادت کا معنی مراد ہو وہاں قرآن یدعون کا استعمال کرتا ہے اور عموماً جہاں ’’دعا‘‘ من دون اﷲ یا مع اﷲ کے ساتھ استعمال ہو، وہاں عبادت مراد ہوتی ہے۔ قرآن حکیم میں اس معنی کے حوالے سے کثیر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ. *الانعام، 6 : 52*
’’اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں۔‘‘
**********************
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ.
*الانعام، 6 : 56*
’’فرما دیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو۔‘‘
**********************
. قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا.
*الانعام، 6 : 71*
’’فرما دیجئے : کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے۔‘‘
**********************
. إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ.
*الاعراف، 7 : 194*
’’بے شک جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو وہ بھی تمہاری ہی طرح (اللہ کے) مملوک ہیں۔‘‘
**********************
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ. *هود، 11 : 101*
’’سو ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے۔‘‘
**********************
رَبَّنَا هَـؤُلاَءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْاْ مِن دُونِكَ.
*النحل، 16 : 86*
’’اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے۔‘‘
**********************
لَن نَّدْعُوَاْ مِن دُونِهِ إِلَهًا لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا
*الکهف، 18 : 14*
’’ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گے۔‘‘
**********************
يَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ يَدْعُواْ لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ
*الحج، 22 : 12 - 13*
’’وہ (شخص) اﷲ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی ہے۔ وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مدد گار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہے۔‘‘
**********************
. إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ.
*الحج، 22 : 73*
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کیلئے جمع ہوجائیں۔‘‘
**********************
وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ.
*المؤمنون : 23 : 117*
’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں
**********************
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ. *الفرقان، 25 : 68*
’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیر حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں۔‘‘
**********************
. ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئًا.
*المؤمن، 40 : 73 - 74*
’’پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ (بت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے۔ اللہ کے سوا، وہ کہیں گے : وہ ہم سے گم ہوگئے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے۔‘‘
**********************
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَدْعُونَ مِن قَبْلُ.
*حم السجده، 41 : 48*
’’اور وہ سب (بت) اُن سے غائب ہو جائیں گے جن کی وہ پہلے پوجا کرتے تھے۔‘‘
*********************
*دُعا بمعنی عبادت تفسیر ابنِ عباس*
**********************
*سورۃ الانعام، 6 : 56*
(اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان
یہاں تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ ہے (یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی مِنَ الاوْثَانِ (بت) ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تَدْعُوْنَ سے محض پکارنا مراد نہیں لیا بلکہ ان کے نزدیک اس کا معنی عبادت کرنا ہے جبکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی بت ہیں۔
*(1 - 5) تنوير المقباس من تفسير ابن عباس*
**********************
*سورۃ الانعام، 6 : 71*
(اَنَدْعُوْ) تأمروننا ان تعبد (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَا لَا يَنْفَعُنَا) ان عبدناه فی الدنيا و الآخرة (وَلَا يَضُرُّنَا) إن لم نعبده فی الدنيا والآخرة.
اَنَدْعُوْا کا معنی ہے کہ تم ہمیں یہ کہتے ہو کہ ہم اﷲ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے خواہ ہم عبادت کریں اور نہ ہی ہمیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں خواہ ہم ان کی عبادت نہ بھی کریں۔
*(1 - 5) تنوير المقباس من تفسير ابن عباس*
*سورۃ الانعام، 6 : 108*
(وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ) يعبدون.
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ کا معنی ہے اور (اے مسلمانو!) تم ان جھوٹے معبودوں کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔
یہاں بھی يَدْعُوْنَ کا معنی محض پکارنا نہیں بلکہ يَعْبُدُوْنَ عبادت اور پرستش کرنا، ہے۔
*(1 - 5) تنوير المقباس من تفسير ابن عباس*
*سورۃ الاعراف، 7 : 194*
(إِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأصنام.
اس آیت کریمہ میں بھی تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ عبادت کرنا اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے معنی مِنَ الْاَصْنَامِ یعنی بت ہیں۔
*(1 - 5) تنوير المقباس من تفسير ابن عباس*
**********************
*سورۃ الاعراف، 7 : 197*
(وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِه) مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنَ الأوثان.
اور جن (بتوں) کو تم اس کے سوا پوجتے ہو۔
*(1 - 5) تنوير المقباس من تفسير ابن عباس*
**********************
*سورۃ الحج، 22 : 73*
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان.
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔‘‘
اس آیت کریمہ میں بھی تدعون کا معنی تعبدون (تم عبادت کرتے ہو) ہے اور من دون اﷲ کا معنی من الاوثان (بت) ہے۔
**********************
*سورۃ المؤمنون، 23 : 117*
وَمَنْ يَدْعُ) يعبد (مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ) من الأوثان.
اور جو شخص اللہ کے سوا بتوں کی عبادت کرتا ہے۔
اس آیت میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی تفسیر کے مطابق يَدْعُ کا معنی يَعْبُدُ اور اِلٰھًاآخر کا معنی اوثان ہے۔
توحید فی الدعاء کے باب میں شرک اس وقت ہوتا ہے جب وہ دُعا بمعنی عبادت ہو جیسا کہ کفار و مشرکین کے متعلق قرآن حکیم میں بصراحت ذکر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر غیر سے عبادت کی نفی کے لئے قرآن مجید میں لفظ مِنْ دُوْنِ اﷲِ استعمال ہوا ہے۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے استعمال میں حکمت یہ ہے کہ عبادتِ الٰہی کا مقام اتنا اونچا اور ارفع ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے ثابت نہیں اس لئے کہ معبودانِ باطلہ ’’ادنیٰ، گھٹیا، کم تر اور حقیر‘‘ ہیں۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے غیر موزوں اور غلط اطلاقات کی طرح بعض لوگ لفظ دعا کا بھی غلط اطلاق کرتے ہیں اور قرآن میں وارد شدہ ’’دعا‘‘ کا معنی ہر جگہ ’’ندا‘‘ اور ’’پکار‘‘ کرتے ہیں کہ غیر اللہ تعالیٰ کو پکارنا شرک ہے حالانکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کی طرح دَعَا يَدْعُو کا دائرئہ اطلاق اور مراد بھی ہر جگہ سیاق و سباق کے پیشِ نظر متعین کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر کوئی بندئہ مؤمن اللہ تعالیٰ کو مستعان و مجیب حقیقی مان کر انبیاء علیہم السلام سے استغاثہ کرے، کسی سے مدد طلب کرے، کسی روحانی شفاخانے سے علاج کروائے یا دم درود اور دعا کیلئے کسی نیک صالح بندے کے پاس جائے تو یہ ہرگز شرک نہیں ہاں اگر وہ شخص یہ عقیدہ رکھے کہ مخلوق بھی اللہ رب العزت کے اذن کے بغیر مستقل، بنفسہ نفع و ضرر کی مالک ہے تو یہ عقیدہ یقیناً شرک ہے۔ایسی تمام آیاتِ مبارکہ کا سیاق و سباق کے حوالے سے جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد اللہ تعالیٰ کے دشمن (اصنام، بت اور طواغیت وغیرہ) ہیں جن کو مشرکینِ عرب اپنا حاجت روا اور نجات دہندہ سمجھتے تھے اس لئے غیر اللہ کو حقیقتاً حاجت روا سمجھ کر ان سے دُعا کرنا شرک ہے۔آن و حدیث کی رو سے ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے مجازاً حاجت روا اور مشکل کشا ہو سکتا ہے، مجازی اور عرفی معنی میں ایسا کہہ دینا شرک نہیں کیونکہ حقیقی حاجت روا، کار ساز تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانا اور سمجھا جاتا ہے مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء و اولیاء و صلحاء کے وسیلے سے دعا کرنا مسنون ہے جس کا حکم خود قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے : وَابْتَغُوْا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ.
’’اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو۔‘‘
*المائدة، 5 : 35*
*خلاصۂ بحث:-*
یونہی ہر جگہ الفاظِ قرآنی کا غلط اطلاق کر کے کسی کو مشرک و بدعتی قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔ عقیدہء توحید اور حقیقتِ شرک کو سمجھنے کیلئے تصورات کا صحیح ادراک نہایت ضروری ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال کے ساتھ تعلیماتِ اسلامی پر عمل پیرا ہوں۔ یہی دین کا تقاضا ہے اور یہی اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء بھی اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے۔
Comments
Post a Comment