قرآن پاک غیب خبر دینے والی کتاب ہیں حضور ﷺ ہجرت سے پہلے ہی مشرکین کی شکست کو جانتے تھے جن کو قرآن سمجھنے کی عقل نہیں وہی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں اگر کوئی کہے قرآن میں غیب کی خبر نہیں تو اس نے قرآن کی آیات کا انکار کر کے کفر کیا :-

قرآن پاک غیب خبر دینے والی کتاب ہیں حضور ﷺ ہجرت سے پہلے ہی مشرکین کی شکست کو جانتے تھے جن کو قرآن سمجھنے کی عقل نہیں وہی حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں اگر کوئی کہے قرآن میں غیب کی خبر نہیں تو اس نے قرآن کی آیات کا انکار کر کے کفر کیا :-
 ترجمۂ کنز العرفان         
یہ لشکروں میں سے ایک ذلیل لشکر ہے جسے یہاں شکست دیدی جائے گی۔(سورۃ ص آیت نمبر 11)
 تفسیر صراط الجنان         
 { جُنْدٌ : یہ ایک ذلیل لشکر ہے۔} کفار کو جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ان سے مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ان کفارِ قریش کی جماعت انہیں لشکروں میں سے ایک ہے جو آپ سے پہلے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں گروہ بن کر آیا کرتے تھے اور ان پر زیادتیاں کیا کرتے تھے، اسی وجہ سے وہ ہلاک کردیئے گئے اور یہی حال کفارِ قریش کا ہے کہ انہیں بھی شکست ہو گی ۔(خازن، ص، تحت الآیۃ: ۱۱ ، ۴/ ۳۱ ،مدارک، ص، تحت الآیۃ: ۱۱ ، ص ۱۰۱۶، ملتقطاً)        
حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین کی شکست کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’ سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ( قمر: ۴۵ )        
ترجمہکنزُالعِرفان : عنقریب سب بھگا دیئے جائیں گے اور وہ پیٹھ پھیردیں گے۔        
اور اس خبر کی صداقت غزوۂ بدر میں ظاہر ہو گئی۔(جمل، ص، تحت الآیۃ: ۱۱ ، ۶ /۳۷۳)        
*اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی :*        
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبوت اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ ہے،وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس سعادت سے مشرف فرما دے، لیکن یہ یاد رہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کے بعد اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ‘‘( احزاب: ۴۰)      
ترجمہکنزُالعِرفان : محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔      
اور حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ عنقریب میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، ان میں سے ہرایک کا یہ دعویٰ ہوگاکہ وہ نبی ہے حالانکہ میں سب سے آخری نبی ہوں اورمیرے بعدکوئی نبی نہیں ہے ۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلہا، ۴ / ۱۳۲ ، الحدیث: ۴۲۵۲)

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے