حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا سبا ایک مرد تھا اور اس کے دس بیٹے تھے، اسی کے نام سے قومِ سبا کا نام ہیں حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے نہ علم رکھتے ہیں نہ عقل نہ ایمان :-

حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا سبا ایک مرد تھا اور اس کے دس بیٹے تھے، اسی کے نام سے قومِ سبا کا نام ہیں حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے نہ علم رکھتے ہیں نہ عقل نہ ایمان :-
ترجمۂ کنز العرفان       
بیشک قومِ سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی ، دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف۔ اپنے رب کا رزق کھاؤاور اس کا شکر ادا کرو ۔پاکیزہ شہر ہے اوربخشنے والا رب۔(سورۃ سبا آیت نمبر 15)
  تفسیر صراط الجنان       
{ لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ : بیشک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی۔} ان آیات میں ایک ایسی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے کثیرنعمتوں سے نوازا لیکن وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے 
اس کی نافرمانی کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سیلاب کے ذریعے ہلاک کر دیا۔   
  سبا عرب کے علاقے یمن کی حدود میں واقع ایک قبیلے کا نام ہے اور یہ قبیلہ اپنے دادا سبا بن یَشْجُب بن یَعْرُب بن قحطان کے نام سے مشہور ہے۔ (جلالین مع جمل، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۶ / ۲۱۷)   
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا گیا کہ سبا کسی مرد کا نام ہے یا عورت کا یا کسی سرزمین کا نام ہے؟نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سبا ایک مرد تھا اور اس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں آباد ہو گئے تھے اور چار شام میں چلے گئے تھے۔ (مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن العباس بن عبد المطلب عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۱/ ۲۷۷ ، الحدیث: ۲۹۰۰)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن کی حدود میں جس جگہ یہ لوگ آباد تھے وہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی تھی ۔اس نشانی کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے شہر مآرب کے دونوں طرف کثیر باغات تھے اور ان باغوں میں پھلوں کی انتہائی کثرت تھی ۔ان لوگوں سے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ذریعے کہا گیا کہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا رزق کھاؤ اور اس نعمت پر اس کی طاعت و عبادت بجالاؤ۔تمہارا شہر پاکیزہ شہر ہے جس میں لطیف آب و ہوا اور صاف ستھری سرزمین ہے، اس میں مچھر ، مکھی ، کھٹمل، سانپ اور بچھو وغیرہ کوئی چیز نہیں اور ہوا کی پاکیزگی کا یہ عالَم ہے کہ اگر کہیں دوسرے علاقے کا کوئی شخص اس شہر میں سے گزر جائے اور اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوں تو سب مرجائیں ۔ اگر تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی روزی پر شکرادا کرو اور اس کی اطاعت بجالاؤ تو وہ بخشش فرمانے والا ہے۔ (خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳ / ۵۲۰ ، مدارک، سبأ، تحت الآیۃ:۱۵ ، ص ۹۵۹ - ۹۶۰ ، ابو سعود، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۵ ، ۴ / ۳۴۵ ، ملتقطاً)

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے