ایک شہر کا چاند دوسرے شہر کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا :-
ایک شہر کا چاند دوسرے شہر کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا :-
Muslim Shareef Hadees No# 2426
حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے ان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملک شام میں بھیجا فرماتے ہیں شام میں آیا اور ان کا کام مکمل کیا تو وہاں رمضان کا چاند نظر آگیا اور ابھی میں شام ہی میں تھا پس میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا۔پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ طیبہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا اور پھر چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ہے؟میں نے کہا ہم نے جمعہ کی رات دیکھا ہے فرمایا تم نے خود دیکھا ہے؟میں نے کہا جی ہاں اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔انہوں نے فرمایا لیکن ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے پس ہم روزہ رکھیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں۔
حضرت کریب فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤيت(چاند دیکھنا) اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں؟ فرمایا نہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ بِبَلَدٍ لَا يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ)؛(ترجمہ؛ہر شہر کے لئے اسی جگہ کی رویت معتبر اور جب ایک شہر کے لوگ چاند دیکھیں تو جو لوگ ان سے دور ہیں ان کے لیے(چاند کا) حکم ثابت نہیں ہوتا؛جلد٢ص٧٦٥؛حدیث نمبر٢٤٢٦)
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2426
Comments
Post a Comment