صحابی کا عقیدہ شیطان کو بھگانے کے لیے کسی بھی وقت اذان دی جا سکتی وقت اور مقام بدلنے سے سنت بدعت نہیں ہوجاتی اس لئے قبرستان میں تدفین کے بعد اذان دی جاتی ہے :-

صحابی کا عقیدہ شیطان کو بھگانے کے لیے  کسی بھی وقت اذان دی جا سکتی وقت اور مقام بدلنے سے سنت بدعت نہیں ہوجاتی اس لئے قبرستان میں تدفین کے بعد اذان دی جاتی ہے :-
Muslim Shareef Hadees No# 762
حضرت سہیل فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا۔فرماتے ہیں میرے ساتھ ہمارا غلام بھی تھا۔یا فرمایا ہمارا ایک ساتھی تھا اچانک کسی نے دیوار سے اس کا نام لے کر آواز دی۔میرے ساتھی نے دیوار سے جھانک کر دیکھا تو کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آئیگا تو میں تمہیں نہیں بھیجتا لیکن جب کوئی آواز سنو تو نماز کی آذان دو میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان ہوتی ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور وہ آواز کے ساتھ ہوا خارج کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر ٧٦٢)
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabus Salat Hadees No# 762

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-