عربی میں اعلان کو آذان کہتے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان سحری کا وقت شروع ہونے کا اعلان ہوتا ہیں کوئی یہ نہ سمجھے کے آذان کے وقت تک کھانے کی اجازت ہے بہت سے آدھا ادهرا علم رکھنے والے آدھی ادھوری حدیث سے غلط مسائل سے گمراہ کرتے ہیں :-

عربی میں اعلان کو آذان کہتے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان سحری کا وقت شروع ہونے کا اعلان ہوتا ہیں کوئی یہ نہ سمجھے کے آذان کے وقت تک کھانے کی اجازت ہے بہت سے آدھا ادهرا علم رکھنے والے آدھی ادھوری حدیث سے غلط مسائل سے گمراہ کرتے ہیں :-
Muslim Shareef Hadees No# 2431
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے جب آیت کریمہ:{حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧](ترجمہ:حتیٰ کہ تمہارے لئے سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ظاہر جائے یعنی فجر ہوجائے) نازل ہوئی تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو رسیاں رکھ لی ہیں ایک سفید اور دوسری سیاہ اس کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلوں گا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے(کہ اس کے نیچے رات اور دن آگیے) اس سے رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛)
ترجمہ؛ طلوع فجر سے روزے کا آغاز اور سحری کےاختیار کا بیان اور جب تک فجر طلوع نہ ہو کھانا وغیرہ جائز ہے اور اس فجر کا بیان جس کے ساتھ احکام کا تعلق ہے یعنی روزے کا شروع ہونا،نماز فجر کا وقت ہوجاناوغیرہ؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٣١)
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2431

 Muslim Shareef Hadees No# 2439
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان ہرگز سحری (کھانے پینے) سے نہ روکے وہ اس لیے آذان دیتے ہیں کہ تم میں سے جو نماز میں مشغول ہے وہ کھانے پینے کے لئے چلا جائے اور سویا ہوا جاگ جائے اور فرمایا صبح وہ نہیں جو اس طرح ہے آپ نے ہاتھوں کو سیدھا کر کے اوپر کی طرف اشارہ کیا حتیٰ کہ اس طرح ہوجاؤ (اس کے ساتھ) آپ نے انگلیوں کو کھول دیا۔(جب روشنی اوپر کو جاتی ہے تو وہ صبح کاذب ہے اور ابھی سحری کا وقت ہے اور جب دائیں بائیں پھیلے تو یہ صبح صادق ہے اور اس وقت سے روزہ شروع ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٩)
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2439

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-