حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کرنا صحابہ کی سنت ہے خود حضور ﷺ نے اپنے آپ کو ان کا مولیٰ کہا یہی بات آج کے منافقوں کو شرک اور بدعت لگتی ہے :-
حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کرنا صحابہ کی سنت ہے خود حضور ﷺ نے اپنے آپ کو ان کا مولیٰ کہا یہی بات آج کے منافقوں کو شرک اور بدعت لگتی ہے :-
ترجمۂ کنز العرفان
اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں نزدیکیوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ سن لو! بیشک وہ ان کے لیے (اللہ کے) قرب کا ذریعہ ہیں ۔ عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 99)*
تفسیر صراط الجنان
اس آیت میں جن دیہاتیوں کا ذکر ہوا ان کے بارے میں امام مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قبیلہ مُزَیْنَہ میں سے بنی مُقَرَّن ہیں۔ کلبی نے کہا وہ اسلم ،غِفار اور جُہَینہ کے قبیلے ہیں۔ *( بغوی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۹۹ ، ۲ /۲۷۰ )*
ان قبائل کے بارے میں صحیح بخاری او رمسلم میں حضرت ابو ہریر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ قریش ، انصار ، جُہَینہ ، مُزَیْنَہ اسلم ، غفارا ورا شجع کے لوگ ہمارے دوست ہیں ، ان کا مولیٰ اللہ اور رسول کے سوا اور کوئی نہیں۔ ( بخاری، کتاب المناقب، باب ذکر اسلم وغفار ومزینۃ۔ الخ، ٢ / ۴۷۷ ، الحدیث: ۳۵۱۲ ، مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم لغفار واسلم، ص ۱۳۶۵ ، الحدیث: ۱۸۹(۲۵۲۰))
Comments
Post a Comment