حضور ﷺ کے علم غیب کا مذاق اڑانا علم غیب پر اعتراض کرنا کفر ہیں :

حضور ﷺ کے علم غیب کا مذاق اڑانا علم غیب پر اعتراض کرنا کفر ہیں :--
ترجمۂ کنز العرفان       
اور اے محبوب! اگرآپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔تم فرماؤ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہو۔(سورۃ التوبہ  آیت نمبر 65)
 تفسیر صراط الجنان        
{اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ   :   ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔} اس آیت کا ایک شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ تبوک میں جاتے ہوئے    منافقین کے تین گروپوں میں سے دو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں مذاق اڑاتے   ہوئے کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے، کتنا بعید خیال ہے اور ایک گروپ بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا۔ حضور پُرنور       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے؟  انہوں نے کہا :ہم راستہ طے کرنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کررہے تھے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ دوسرا شانِ نزول یہ ہے کہ کسی کی اونٹنی گم ہوگئی ، اس کی تلاش تھی   رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا    او نٹنی فلاں جنگل میں فلاں جگہ ہے اس پر ایک منافق بولا ’’محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     بتاتے ہیں کہ اونٹنی فلاں جگہ ہے ، محمد غیب کیا جانیں ؟ اس پر  اللہ عَزَّوَجَلَّ    نے یہ آیتِ کریمہ اتاری۔   (مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ:    ۶۵ ، ص ۴۴۳ ، در منثور، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۴ /  ۲۳۰ ، ملتقطاً )   
آیت’’   وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ   ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:   
اس آیت سے  3  مسئلے معلوم ہوئے :   
(1)  حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو    اللہ  تعالیٰ نے غیب کا علم دیا کہ جو تنہائی میں باتیں کی جائیں نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو ان کی خبر ہے۔   
(2)  کفر کی باتیں سن کر رضا کے طور پر خاموش رہنا یا ہنسنا بھی کفر ہے۔ کیونکہ    رضابِالْکُفر   کفر ہے۔   
(3)  حضور پُرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی تَوہین اللہ  تعالیٰ کی توہین ہے کیونکہ ان منافقوں نے حضوراکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کی تھی مگر فرمایا ’’  اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ‘‘ یعنی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا مذاق اڑانا    اللہ  تعالیٰ اور اس کی تمام آیتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ لہٰذا تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی تعظیم    اللہ  تعالیٰ کی تعظیم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے