اتحاد کے نام پر ہندوؤں کو اپنی مسجد میں بولنا قرآن کی آیات کے خلاف ہیں باطل فرقے والے ایسے اتحاد کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کسی ناپاک مسلمان کو بھی مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دنیا بھر کی مَساجِد میں مشرکوں کا داخلہ ممنوع ہے:-

 اتحاد کے نام پر ہندوؤں کو اپنی مسجد میں بولنا قرآن کی آیات کے خلاف ہیں باطل فرقے والے ایسے اتحاد کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کسی ناپاک مسلمان کو بھی  مسجد میں جانے کی اجازت نہیں  دنیا بھر کی مَساجِد میں مشرکوں کا داخلہ ممنوع ہے:-

ترجمۂ کنز العرفان     

اے ایمان والو! مشرک بالکل ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں اور اگرتمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ اپنے فضل سے اگر چاہے گاتوتمہیں دولت مند کردے گا بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ *(سورۃ التوبہ آیت نمبر 28)* 

 یہاں مشرکین کو منع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان مسجدِ حرام شریف میں آنے سے روکیں۔یہاں اصلِ حکم مسجد ِ حرام شریف میں آنے سے روکنے کا ہے اور بقیہ دنیا بھر کی مساجد میں آنے کے متعلق بھی حکم یہ ہے کہ کفار مسجدوں میں نہیں آسکتے ۔ خصوصاً کفار کو عزت و احترام اور استقبال کے ساتھ مسجد میں لانا شدید حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں کہ’’ یہ کہنا کہ مسجدُ الحرام شریف سے کفار کا منع ایک خاص وقت کے واسطے تھا ،اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو   اللہ  عَزَّوَجَلَّ   پر صَریح اِفتراء ہے،   اللہ  تعالیٰ نے ارشاد فرمایا  ’’   اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا  ‘‘  

(  *ترجمہکنزُالعِرفان*  :  مشرک بالکل ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔)  

یونہی یہ کہنا کہ کفار کے وُفود مسجدِ نبوی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ   ہے۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے  لئے مسجدِ کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا  کسی کافر کی حاضری  مَعَاذَاللہ  بطورِاِستیلا واِستِعلاء   (یعنی غلبے کے طور پر)   نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے   یا تبلیغِ اسلام سننے کے واسطے تھی ۔   *(فتاویٰ رضویہ،کتاب السیر، ۱۴/ ۳۹۰  -  ۳۹۱)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے