ہوازن قبیلے کے لوگوں کا حضور ﷺ کے وسیلے سے مدد مانگنا :-
ہوازن قبیلے کے لوگوں کا حضور ﷺ کے وسیلے سے مدد مانگنا :-
نسائی شریف کی روایت میں ہے کہ جب ہوازن قبیلے کے لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اپنے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں عرض کی توآپ نے اپنے خاندان کے حصے میں آنے والے لونڈی غلاموں کو آزاد فرما دیا، اس کے بعد ان سے ارشاد فرمایا ’’ فَاِذَا صَلَّیْتُ الظُّہْرَ فَقُوْمُوْا فَقُوْلُوْا اِنَّا نَسْتَعِیْنُ بِرَسُوْلِ اللہِ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَوِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ نِسَائِنَا وَاَبْنَائِنَا ‘‘ جب میں ظہر کی نماز پڑھوں تو تم سب کھڑے ہو کر یوں کہو: ہم اللہ کے رسول کے وسیلے سے مسلمانوں سے اپنی عورتوں اور بچوں میں مدد چاہتے ہیں۔ *( نسائی، کتاب الہبۃ، ہبۃ المشاع، ص ۶۰۵ ، الحدیث: ۳۶۸۷ )*
اس سے معلوم ہوا کہ اِستِعانت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment