غایبانا نماز جنازہ کی امامت کرنا حضور ﷺ کے لئے خاص ہیں آپ ﷺ سامنے حضرت نجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جنازہ پیش کیا گیا یہ فضیلت اہلے حدیث فرقے کے امام کو نہیں ہیں جو اس کو دلیل مانتے ہیں :-

 غایبانا نماز جنازہ کی امامت کرنا حضور ﷺ کے لئے خاص ہیں آپ ﷺ سامنے حضرت نجاشی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا جنازہ پیش کیا گیا یہ فضیلت اہلے حدیث فرقے کے امام کو نہیں ہیں جو اس  کو دلیل مانتے ہیں :- 

 ترجمۂ کنز العرفان         

اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ایسے ہیں جو اللہ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اُس پر اور جو اُن کی طرف نازل کیا گیا اُس پر اِس حال میں ایمان لاتے ہیں کہ ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں وہ اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہیں لیتے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے *۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 199)* 

 تفسیر صراط الجنان          

{وَ  اِنَّ  مِنْ  اَهْلِ  الْكِتٰبِ : اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ۔ } حضرت  عبداللہ بن عباس     رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہ آیت حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی، اُن کی وفات کے دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  سے فرمایا ،چلو اور اپنے بھائی کی نماز ِ جنازہ پڑھو جس نے دوسرے ملک میں وفات  پائی ہے ۔ چنانچہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بقیع شریف تشریف لے گئے اور حبشہ کی سرزمین آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے سامنے کی گئی اور حضرت نجاشی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا جنازہ سامنے ہوگیا ۔اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے چار تکبیروں کے ساتھ نماز ِ جنازہ پڑھی اور اس کے لئے اِستغفار فرمایا ۔(سُبْحَانَ اللہ  ، کیا نظر ہے اور کیا شان  ہے کہ سرزمینِ حبشہ مدینہ منورہ میں سامنے پیش کردی جاتی ہے۔ )  منافقین نے اِس پراعتراض کیا اور کہا کہ دیکھو ،حبشہ کے  نصرانی پر نماز پڑھتے ہیں جس کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کبھی دیکھا بھی نہیں اور وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دین پر بھی نہ تھا ۔ اس پر  اللہ  تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ *( خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۹، ۱ / ۳۳۹)*    

اور اُن کی شان میں فرمایا گیا کہ منافق جن کو عیسائی کہہ رہے ہیں حقیقت میں وہ مسلمان ہیں کیونکہ کچھ اہلِ کتاب  ایسے ہیں جو   اللہ عَزَّوَجَلَّ  پر اور پچھلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے کہ ان کے دل عاجزی و اِنکساری اور تواضُع و اخلاص کے ساتھ  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے حضور جھکے ہوئے ہیں اوریہودی سرداروں کی طرح وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی آیتیں  بیچ کر ذلیل قیمت نہیں لیتے بلکہ سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ توان لوگوں کیلئے  اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں اجرو ثواب کا خزانہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے