تمام انبیاء کرام اپنی امّت کے اعمال اور ایمان کفر پر گواہ ہیں اور حضور ﷺ تمام انبیاء کرام کی امّت کے اعمال اور ایمان کے بھی گواہ ہیں یہی حاضر و ناظر ہونے کی دلیل ہے :-

 تمام انبیاء کرام اپنی امّت کے اعمال اور ایمان کفر پر گواہ ہیں اور حضور ﷺ تمام انبیاء کرام کی امّت کے اعمال اور ایمان کے بھی گواہ ہیں یہی حاضر و ناظر ہونے کی دلیل ہے :- 

 ترجمۂ کنز العرفان       

تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 41)* 

 تفسیر صراط الجنان        

{ فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ  :  تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں۔} اس آیت میں کفار و منافقین اور یہودو نصاریٰ کے لئے شدید وعیدہے کہ جب قیامت کے دن تمام انبیاء   عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اپنی امت کے ہر نیک اور بد کے ایمان، کفر ، نفاق اور تمام اچھے برے اعمال کی گواہی دیں گے ، پھر ان سب پر حضور سیدُ المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو گواہ بنایا جائے گا تو ان کا انجام کیا ہو گا۔ قیامت کے دن دی جانے والی اس گواہی کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر  143  کے تحت گزر چکی ہے

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-