صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا شوقِ رفاقت میں موت کو پسند بھی کرتے تھے اور جانتے بھی تھے آج یا کل ان کی ملاقات ہوگی :-
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا شوقِ رفاقت میں موت کو پسند بھی کرتے تھے اور جانتے بھی تھے آج یا کل ان کی ملاقات ہوگی :-
ترجمۂ کنز العرفان
اور جواللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں ۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 69)*
عاشقوں کے امام حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی زوجہ شدت ِغم سے فرمانے لگیں : ہائے غم۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: واہ! بڑی خوشی کی بات ہے کہ کل ہم اپنے محبوب آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ملاقات کریں گے ۔ *(سیرت حلبیہ، باب استخفائہ صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ فی دار الارقم۔ الخ، ۱ / ۴۲۲)*
ایک جنگ کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ہاشم بن عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا ’’اے ہاشم! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، تم جنت سے بھاگتے ہو حالانکہ جنت تو تلواروں (کے سائے) میں ہے۔ آج میں اپنی محبوب ترین ہستیوں محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کروں گا۔ چنانچہ اسی جنگ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شہادت پائی۔ *(اسد الغابہ، باب العین والمیم، عمار بن یاسر، ۴ / ۱۴۴)*
جب حضرت خباب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار ہوئے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے (جب انہوں نے دیکھا کہ یہ اسی مرض میں وفات پا جائیں گے ) تو فرمایا ’’تم خوش ہو جاؤ، کل تم محبوب ترین ہستی محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ملاقات کرو گے۔ *(البدایہ والنہایہ، ثمّ دخلت سنۃ سبع وثلاثین، ذکر من توفی فیہا من الاعیان، ۵ / ۴۱۷)*
اللہ تعالیٰ ان مقدس ہستیوں کے شوقِ رفاقت کے صدقے ہمیں بھی اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبر و حشر اور جنت میں رفاقت نصیب فرمائے۔ اٰمین۔
Comments
Post a Comment