جشن عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس پر عقل و شعور سے عاری اختلافات

 جشن عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس پر عقل و شعور سے عاری اختلافات ۔۔۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو حصوں میں تقسیم کریں تو ایک حصہ وہ جس کی اصل قرآن اور احادیث سے ثابت ہے یعنی  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خیر کرنا عبادت ہے اللہ کا حکم ہے ۔ پورا قرآن و احادیث کے مجموعہ نبی پاک کی شان اور عظمت اور آپکے ذکر سے بھرا پڑا ہے۔ 

علمائے اسلام 14 سو سال سے نبی پاک کی شان و عظمت میں کتابیں لکھ رہے ہیں ۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر جمع ہوکر نبی پاک کی شان و عظمت بیان کرتے رہے ہیں۔ پچھلے 1400 سال سے نظم اور نثر میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان ہو رہی ہے۔ 

انبیاء کرام کی پیدائش (میلاد) کی خوشی قرآن اور احادیث سے ثابت ہے چاہے وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی پیدائش کی خوشی میں پیر کا روزہ رکھنے کا معاملہ ہو یا حسان بن ثابت کا صحابہ کرام کے مجمے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنا قصیدے پڑھنا ہو ۔ 

احادیث صحیحہ 

یا احادیث کے مطابق ابو لہب کا عذاب قبر کم ہونا اور اسکی وجہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خوشی کرنا ہو۔ 

 یا اللہ پاک کا قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری دینا ہو۔ 

یا اللہ پاک کا قرآن میں تمام انبیاء کرام کے سامنے عالم ارواح میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنا اور تمام انبیاء سے آپکے لیے عہد لینا ہو لکھا ہو۔ 

ان تمام باتوں سے یہ بات تو ہر ایک مسلمان کے لیے ثابت شدہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنا عبادت ہے چاہے وہ انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر اور آپکی پیدائش پر خوش ہونا بھی عبادت اور مقبول عمل ہے۔ 

اب آتے ہیں اس پر اختلاف کس بات پر ہے اگر عقل و شعور استعمال کریں تو زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذکر کرنے کے  طریقہ سے اختلاف ہے۔۔۔ 

ورنہ جشن عیدمیلادالنبی کا اجتماع ذکرونعت کرنا اور مخالفین کا جلسہ سیرت النبی یا سیرت کانفرنس کرنا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا دونوں میں ۔ تلاوت قرآن۔ 

حمدو نعت ۔ ذکر و دعا ۔ درود و سلام ہی ہوتا ہے۔ 

آخری اختلاف صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آپ جشن عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیاوی خوشی کے اظہار کر طریقوں سے اختلاف کرو ۔ 

جیسے جلوس میلاد النبی نکالنا۔ 

گھروں بازاروں میں چراغہ کرنا

 یا حکومتی سطح پر 31 اور صوبائی سطح پر 21، 21 توپوں کی سلامی دینا۔ وغیرہ ۔ 

اگر مخالفین جشن عیدمیلادالنبی عقل و شعور سے کام لیں تو یہ سب دنیاوی خوشی کے اظہار کے طریقہ وہ خود بھی اپناتے ہیں اور وہ خود بھی ہر موقعہ پر استعمال کرتے ہیں چاہے ہو مذہبی سیاسی معاملہ ہو ۔ عظمت صحابہ کے نام پر ہو ۔ صد سالہ جشن مدرسہ دیوبند ہو یا اہل حدیث حضرات کا سیرت النبی کانفرنس کرنا وغیرہ ۔؟؟؟ 

اس حقیقت کے بعد بھی اگر کسی کو جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اختلاف ہے کہ ذکر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بدعت ہے (معاذاللہ)  تو اس کو چاہیے کے اپنے دماغ کا علاج کروائے یا اللہ سے اپنے ایمان اور سینہ کھل جانے کی دعا کرے ۔ 

اور اگر ایسا نہیں ہے اور آپکا اختلاف صرف فروعی اختلاف یعنی دنیاوی خوشی کے اظہار کے طریقوں سے ہے تو کوئی مسئلہ نہیں کیا س پر شدت پسندی کرنا ٹھیک ہے ؟؟؟ 

اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ایمان کامل نصیب کرے اور بغض مسلم سے سینہ کو پاک کرے اور حق بات تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے