حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہار کی گمشدگی کو منافقوں نے حضور ﷺ کی لاعلمی کی دلیل سمجھا صحابہ نے قرآن کی آیات کا نزول اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی برکت سمجھا :-

 حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کے ہار کی گمشدگی کو منافقوں نے حضور ﷺ کی لاعلمی کی دلیل سمجھا صحابہ نے قرآن کی آیات کا نزول اور حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی برکت سمجھا :- 

  ترجمۂ کنز العرفان           

اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک سمجھنے نہ لگو وہ بات جو تم کہو اورنہ ناپاکی کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) حتی کہ تم غسل کرلو سوائے اس کے کہ تم حالتِ سفر میں ہو (تو تیمم کرلو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتو ں سے ہم بستری کی ہواور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرلیا کرو بیشک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 43)* 

 تفسیر صراط الجنان            

آیتِ مبارکہ کے آخری جز کا شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ بنی مُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام رات کے وقت ایک بیابان میں ٹھہرا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا، وہاں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا  کا ہار گم ہوگیا، اس کی تلاش کے لئے سیّد ِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے وہاں قیام فرمایا، صبح ہوئی تو پانی نہ تھا۔     

 اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسَیْدْ بن حضیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کہا کہ’’ اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے۔ پھر جب اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار مل گیا۔ *(بخاری، کتاب التیمم، باب التیمم، ۱ / ۱۳۳، الحدیث:  ۳۳۴)*           

ہار گم ہونے اور رحمت ِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے نہ بتانے میں بہت سی حکمتیں تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کے ہار کی وجہ سے نبی رحمت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا وہاں قیام فرمانا حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کی فضیلت و مرتبے کو ظاہر کرتا ہے اور صحابۂ کرام      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے ہار تلاش کرنے میں اس بات کی ہدایت ہے کہ حضور تاجدارِ انبیاء  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ازواجِ مُطَہَّرات کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے، نیز اس واقعے سے تیمم کا حکم بھی معلوم ہوگیا جس سے قیامت تک مسلمان نفع اٹھاتے رہیں گے۔  سُبْحَانَ اللہ

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-